94

ایون اور کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر افسوسناک ہے، اگلے مہینے احتجاجی تحریک شروع کرینگے/عمائدین

چترال(بشیرحسین آزاد)ایون اور تینوں کالاش وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر کے باشندوں نے کالاش ویلیز روڈ پر کام شروع کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ستمبر کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سڑک پر کام شروع نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا راستہ اپنا یا جائے گا جس میں کالاش وادیوں کی طرف جانے والی سڑک کو بلاک کرنا شامل ہوگااور یہ کہ عوام کواب مزید لولی پاپ دے کر ٹرخایا نہیں جاسکے گا۔ گذشتہ دنوں ایون کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایون اور کالاش وادیوں کے عمائیدین جندولہ خان، خیر الاعظم، عنایت اللہ اسیر، آصف رضا، میر افضل لال، وجیہہ الدین، سیف اللہ جان، رحمت الٰہی، کالاش خاتون ملت گل، حافظ خوش ولی خان، آغا خان کالاش، عرفان، شفیق الرحمن اور دوسروں نے کہاکہ کالاش کلچر پوری دنیا میں مشہور ہونے کی وجہ سے یہاں بیرونی سیاحوں کے علاوہ ملک کے تمام سیاستدان اور سینئر بیوروکریٹ اور بااثر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں لیکن کسی نے بھی ان وادیوں کو جانے والی سڑکوں پر توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی اور اس ترقی یافتہ دورمیں بھی ان سڑکوں کو دیکھ کر کسی کو شرم نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ کالاش ویلیز کی سڑک کی تعمیر کے بارے میں موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کو سبز باغ دیکھاکر ٹرخانے سے ذیادہ کچھ نہیں کیا لیکن یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے مطابق کالاش ویلیز روڈ کے لئے ساڑھے 4ارب روپے ریلیز بھی ہوئے ہیں اور کام کا ٹینڈر بھی ہوچکا ہے لیکن عملی طور پر یہ سب کچھ غلط ثابت ہوا کیونکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود اب بھی کام شروع کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کالاش وادیوں کی طرف جانے والی موجودہ سڑک 1920ء کے عشرے میں انگریزوں نے خچروں پر بار برداری کے لئے بنایا تھا جس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے یہ موجودہ سمیت تمام حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کالاش وادی سے تعلق ہونے کے باوجود انہوں نے بھی اس سڑک سے متعلق اعلانات پر ہی اکتفاکیا جبکہ اب اپر چترال جاکر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی وجہ سے حکومت مجبور ہے تو بھی وزیر زادہ کو چاہئے کہ وہ عوام کو صاف صاف بتادے جبکہ ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی کی کارکردگی بھی اس سلسلے میں تسلی بخش نہیں ہے اور انہیں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفی دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ سڑکوں کے لئے تحریک کے پہلے مرحلے میں تینوں کالاش وادیوں اورایون کے مقام پر عوامی جلسے منعقد کئے جائیں گے جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلوں میں شدید احتجاج کا راستہ اپنا یا جائے گاجس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اُنہوں نے ایون آرسی سی پل کو جلد ٹریفک کے کھلنے کا بھی بھرپور مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ایک ہفتے کے اندر مذکورہ پل کوآمدورفت کے لئے نہ کھولا گیا تو عوام از خود پل کے رکاوٹوں کو ہٹا کرکے پل پر گاڑیوں کی آمدرفت شروع کرینگے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے مقامی رہنما شفیق الرحمن نے وزیر زادہ کی طرف سے عوام کویقین دلایا کہ ستمبر میں کام کا آغاز کیا جائے گا جبکہ سڑک کے لئے زمین کی خریداری کی مدمیں 2ارب روپے صوبائی حکومت نے دے دی ہے اور ضلعی انتظامیہ زمین کی خریداری کے لئے بہت جلد ہی کاروائی کا آغاز کرے گی۔بعد میں احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں ایوان اور تینوں کالاش وادیوں سے تعلق رکھنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔