130

چترال کے سڑکوں کی مخدوش حالت کا نوٹس لینے پر چیف جسٹس صاحبان کے مشکور ہیں /چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ


چترال(بشیرحسین آزاد)چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم)کے چیئرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ نے چترال کی سڑکوں کے بارے میں حقیقت پسندانہ ریمارکس دینے اور ان کی مخدوش حالت کا نوٹس لینے پر سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ روڈز کا نہ ہونا اور موجود سڑکوں کی ابتر حالت چترال کا سب سے بڑا مسئلہ اور اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں سی ڈی ایم کے صدر عنایت اللہ اسیر، سینئر نائب صدور مولانا اسرار الدین الہلال، قاری نظام، نائب صدورشبیر احمد، حاجی شیر حکیم، فنانس سیکرٹری لیاقت علی خان اور دیگر راہنماؤں عمیر خلیل اللہ، عمادالدین، ظفر محمد، اشتیاق احمد اکاش، طاہر زمان آہل، قاری جنید احمد اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ انصاف کی اعلیٰ ترین کرسیوں پر براجمان شخصیات چترال کی اس مسئلے کو حل کرنے تک ساتھ دیں گے اور چترال کے منتخب نمائندے بشمول ممبران صوبائی وقومی اسمبلی اور سینیٹر اسمبلی اور سینٹ میں پوائنٹ آف آرڈر پر اس مسئلے کو مزید اجاگر کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیاکہ وفاقی وزیر مواصلات مرادسعید اپنے وعدے کے مطابق دسمبر میں چترال کے تین روڈ پراجیکٹوں شندور، گرم چشمہ اور کالاش ویلی روڈز پر کام کا افتتاح کریں گے اور عمران خان کی سیاحت کو ترقی دینے کی وژن کے مطابق عملی کام شروع ہوگا۔ انہوں نے چترال میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام سڑکوں کی بہتری میں ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرنے پر ممبر این ایچ اے خیبر پختونخوا مکیش کمارکا چترالی عوام کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ سی ڈی ایم کے رہنماؤں نے چترال کے دیگر سڑکوں بونی بزند روڈ پر واقع استارو پل کو موسم سرما کی برفباری سے پہلے مکمل کرنے اور اس کے لئے وفاق سے مزید فنڈز کی اجراء، لواری ٹنل کی چترال سائیڈ پر اپروچ روڈ کی تکمیل، ارندو روڈ کی باقی ماندہ کام پورا کرنے اور ارکاری روڈ پر کام فی الفور شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے گرم چشمہ کے پل کو فوری طور پر ٹریفک کے لئے دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس وادی کے ہزاروں آلو کے کاشت کار وں کو مجموعی طور پر اربوں روپے کا نقصان سے بچایا جاسکے کیونکہ آلو کی ٹرانسپورٹیشن کا سیزن جاری ہے اور یہ واحد پل ہے جوکہ گرم چشمہ سے لے کر بروغل تک کے علاقے کو ملک کے دیگر حصوں سے ملاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مستوج بروغل روڈ سنٹرل ایشیاء کی ممالک کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں نہایت اہمیت کا حامل ہونے کی بنا پر اسے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو منتقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ سی ڈی ایم کے رہنماؤں نے چترال میں سڑکوں کے لئے موثر کردار ادا کرنے پر ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ کالاش اور سینیٹر فلک ناز کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے اس امید کا اظہارکیاکہ وہ اپنی کوششیں مزید تیز کریں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ سی ڈی ایم ایک مکمل طور پر غیر سیاسی تنظیم ہے جوکہ علاقائی اور سیاسی تعصب سے مکمل طور پر پاک ہے اور صرف متحدہ چترال کی تعمیر وترقی اور خصوصاً سڑکوں کی حالت درست کرنے کے لئے تحریک تک محدود ہے اور اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا اور دیگرکوئی اعراض ومقاصد ہر گز نہیں ہیں۔ لیاقت علی خان، مولانا نظام اور عماد الدین نے مختلف روڈ منصوبوں پر روشنی ڈالی۔