80

تحریک انصاف کی آٹھ سالہ دور حکومت میں چترال نظر انداز رہا، منظور شدہ منصوبوں کو رول بیک کیا گیا/سلیم خان


چترال (چ،پ) سابق صوبائی وزیر اور پی پی پی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن سلیم خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری میں خوفناک اضافہ ہوا ہے جس سے غریبوں کے لئے جینا بھی مشکل ہوگیا ہے جبکہ چترال کے دونوں اضلاع اس دور حکومت میں ترقی کے دور میں مزید پیچھے چلے گئے اور پی ٹی آئی کی آٹھ سالہ صوبائی حکومت نے ضلع میں میگاپراجیکٹ لانا تو دور کی بات،یہاں پر جاری ترقیاتی کام بھی رول بیک کردئیے جن میں گرم چشمہ اور بمبوریت روڈ شامل ہیں۔ پارٹی کے مقامی رہنماؤں انجینئر فضل ربی جان، عالم زیب ایڈوکیٹ، قاضی فیصل، محمد حکیم ایڈوکیٹ، شریف حسین اور دوسروں کی معیت میں چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چترال کو درپیش مسائل بیان کرتے ہوئے سی پیک روٹ سے چترال کو خارج کرنے، اہم روڈ منصوبوں کو ختم کرنے اور لواری ٹنل کی چترال سائیڈ پر اپروچ روڈ پر کام کی بندش سمیت دوسرے مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ سابق صدر آصف زرداری نے چکدرہ چترال گلگت روڈ کو سی پیک منصوبے میں شامل کروایا تھاجس سے اس علاقے کی ترقی کا مستقبل وابستہ تھالیکن عمران حکومت نے اس عظیم منصوبے سے چترال کو محروم کرکے چترال شندور روڈ کا لولی پاپ دے دیا ہے جوکہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ گرم چشمہ اور بمبوریت روڈ کے ٹینڈر بھی گزشتہ دور حکومت میں ہوچکے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے ان منصوبوں کو سرد خانے کی نذر کرکے چترال دشمنی کی حد عبور کردی۔ سلیم خان نے کہاکہ ایک طرف حکومت سیاحت کو ترقی دینے کی بات کرتے ہوئے نہیں تھکتی تو دوسری طرف سیاحتی اہمیت کے حامل وادیوں میں سڑکوں اور چترال شہر میں واقع سڑکوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جس سے یہاں آنے والے سیاح مایوس ہوکر واپس جاتے ہیں۔ سلیم خان نے یونیورسٹی آف چترال کے لئے زمین کی خریداری میں حکومت کی ناکامی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بلند بانگ دعوے کرنے والے آٹھ سالوں میں ایک انچ زمین بھی خریدنے نہ سکے اور اس بار بھی حکومت نے اربوں روپے منظوری کی سبز باغ چترالی عوام کو دیکھا دی ہے جوکہ گزشتہ سالوں کی طرح یہ بھی محض اعلان ثابت ہوں گے۔ پی پی پی کے رہنماء نے کہاکہ لینڈ سیٹلمنٹ پر ان کی پارٹی کا موقف واضح ہے کہ اس میں مختلف علاقوں کے چراگاہوں، بنجر زمینات، ریور بیڈ اورجنگلات کو ان علاقوں کے عوام کے نام پر درج کیا جائے اور موجودہ حالت میں لینڈ سیٹلمنٹ چترال کے عوام کو ہر گز منظور نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے چترال میں معدنیات کو ایک امریکن کمپنی کو غیر قانونی پر لیز پر دے دی ہے جبکہ اس پر پابندی عائد تھی اور اس کمپنی کا مالک پی ٹی آئی کو الیکشن مہم میں بھاری بھاری چندہ دہندہ ہے جوکہ اس وقت بھی آزاد کشمیر میں الیکشن کے لئے پی ٹی آئی کی فنانسنگ کررہا ہے۔سلیم خان نے گولین گول ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ سے چترال کے لئے رائلٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس بجلی گھر سے صوبائی حکومت کو ملنے والی رائلٹی کا 5فیصد پر چترال کا حق ہے جس کا حساب چترالی عوام کو پیش کیا جائے۔