247

یارخون اناوچ پل جیب حادثہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِہمدردی کے سلسلے میں بونی میں تقریب کا انعقاد کیا گیا


بونی (افگن رضا) گذشتہ روز چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کی جانب سے یارخون (اناوچ) جیب ایکسیڈنٹ کے متاثرین کے ساتھ ہمدری اور نفسیاتی بحالی کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے سلسلے میں ایک پروگرام اپر چترال بونی میں منعقد ہوا جس میں چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے اراکین کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کے لواحقین نے شرکت کی۔پروگرام کا آغازخطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان نے تلاوت کلام پاک اور مرحومین کی مغفرت کے دعا کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر ایس پی انوسٹی گیشن چترال خالد خان، ڈاکٹر عبد لکریم ایس،ڈی،پی،او مستوج محی الدین،علاؤ الدین عرفی اور ذاکر محمد زخمیؔ نے اظہارِ خیال کیا۔ایس پی خالد خان نے مذکورہ حادثے کے سبب انسانی جانوں کے ضیائع پر اظہارِ افسوس کیااور اسے دلخراش واقعہ قراردی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی پر چترال کے قابلِ فخر فرزند محترم محمد ضیا سالکؔکے خدمات کی اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کی اور ان کا دلی ہمدردی اور پیغام حاضرین تک پہنچایا۔ یاد رہے محمد ضیا سالکؔ محترم رحمت عزیز سالکؔ کا فرزند ارجمند ہیں ان کا تعلق چترال کے گاوں لوٹ اویر سے ہے رحمت عزیز سالکؔ مرحوم برطانیہ میں رہ کر عرصہ دراز سے انسانیت کے خدمت کے لیے خود کو وقف کر رکھا تھا ان کی رحلت کے بعد اس عظیم کام کا بیڑہ محمد ضیا سالکؔ بطریقِ احسن اٹھا رکھے ہیں۔ آپ نہ صرف چترال بلکہ دنیا کے کم و بیش چالیس ممالک میں انسانیت کے عملی خدمت میں مصروف ہیں۔ اسی طرح انفارمیشن گروپ کی توسط سے سانحہ یارخون کے متاثرین کے ساتھ عملی ہمدردی اور مالی اعانت بھی ضیا سالک ہی نے کی تھی، اس پر ہیلپنگ گروپ کے جملہ ممبران ان کے مشکورہیں۔تقریب میں ذاکر زخمیؔ انفارمیشن گروپ کے اغراض و مقاصد اور مختصر کارکردگی پیش کی اور چترال اور گلگت کے مخیر اور مخلص لوگوں کو ایک گروپ میں جمع کرنے پرمحمد علی مجاہدؔ اور فضل الرحمٰن شاہدؔ کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔خطیب شاہی مسجد چترال خلیق الزمان نے متاثرہ خاندانوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جب سے یہ دلخراش واقعہ پیش ایا ہے ہم سب ہر صورت آپ سے رابطے میں رہے ہیں اورآئندہ بھی ہر طرح کے ہمدردیآ پ سے رہیگی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آپ اکیلے نہیں، اگر چہ مرحومین کا نعیم البدل تو ہمارے پاس نہیں ہوتا تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر وہ کام ہم کرینگے جس سے آپ کو ذہنی اطمینان حاصل ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرحومین کے بچے،بچیوں کو اگر تعلیم کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہو تو چھ سال سے دس سال تک کے بچوں،بچیوں کو مفت تعلیم دینے کی ذمہ داری ہم پر ہے، انہیں ہر وہ سہولیات فراہم کرینگے جو انہیں درکارہو گی اور گریجویشن تک ان کو مفت تعلیم دی جائیگی۔ متاثرین نے اس موقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چترال انفارمشین اینڈ ہیلپنگ گروپ کے خدمات پر تمام ممبران کو خراج، تحسین پیش کیے اوردیار غیر میں رہتے ہوئے چترال کے لیے خدمات پر محمد ضیا سالکؔ کو سلام پیش کی۔ پروگرام کے آخر میں متاثرین کے بحالی کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا گیا اور متاثرین میں امدادی رقم تقسیم کئے گئے۔ا س تقریب میں انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے فعال ممبر شہزاد احمد شہزادؔ کے علاوہ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹراحمد عیسیٰ، چیئرمین چپس رحمت علی جوہرؔاور نوجوان سوشل ایکٹیویسٹ افگن رضاؔ بھی موجود تھے۔ ایس،ڈی، پی، او مستوج محی الدین اس تقریب کی میزبانی کی۔
یاد رہے کہ چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ جوکہ چترال سے تعلق رکھنے والے خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار لوگوں کا آن لائن واٹسپ گروپ ہے، جو گزشتہ سال کوروونا وائرس کے پھیلاو کی وجہ ملک کے مختلف شہروں میں پھسے ہوئے اور پریشان حال لوگوں کی مدد کے لیے بنایا گیا۔یہ گروپ اپنی وجود میں آنے سے آج تک نہ صرف کورونا سے متاثرہ لوگوں کی مدد بھر پور طریقے سے کی بلکہ کرونا کی زور ٹوٹنے کے بعد بھی اپنی بے مثال خدمت کو جاری رکھ کر زندگی کے ہر شعبے میں اپنی بہتریں خدمات پیش کرتا ایا ہے۔ ابھی تک یہ گروپ سینکڑوں بے یار و مدد گار لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے علاوہ چترال اور گلگت کے مستحق خاندانوں میں راشن بھی تقسیم کر چکا ہے اسی طرح مریضوں کے علاج معالجے اور متاثر خاندانوں کی بحالی میں اپنا جاندار کردار ادا کر رہاہے۔ یہ گروپ چترال اور گلگت میں اپنی مقدور کے مطابق عملی خدمات میں مصروف ہے۔اور ہر دو علاقے کے درد دل اور مخلص لوگ اس گروپ میں شامل ہیں۔