101

معدنیات کے لیز کوبلاکس میں تقسیم کرنے کا عمل ناکام ہو چکا ہے، اسے ختم کیا جائے/سیاسی و سماجی عمائدین

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال مائنز اونرز ایسوسی ایشن اورفیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس خیبر پختونخواہ نے خیبر پختونخوا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لوئر اور اپر چترال کے اضلاع میں معدنیات کو لیز میں دینے کے لئے بڑے اسکیل پر15مختلف بلاکس میں تقسیم کے عمل کو فی الفور ختم کیا جائے کیونکہ جن مقاصد کو سامنے رکھ کر بڑے بلاکس بنائے گئے تھے، وہ قطعی طور پر حاصل نہ ہوسکے اور اس پالیسی کا الٹا اثر ہوااور یہ معدنیات کی ترقی کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کررہ گئی ہے۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں مائنزاونر ایسوسی ایشن کے صدر اور کوآرڈنیٹر ایف پی پی سی آئی سرتاج احمد خان نے مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے سربراہاں بشیر احمد خان،امیر جماعت اسلامی چترال مولانا اخونزادہ رحمت اللہ، مولانا جمشید احمد،ضلعی صدر اے این پی چترال الحاج عید الحسین، لیاقت علی، شیخ صلاح الدین، عبدالغفار، محمد وزیر خان، شیر عالم خان،مقصود احمدبیگ،شاہ جہان اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ باہر سے بڑے سرمایہ کاروں کو چترال میں معدنیات کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لئے چترال کو معدنیات کے لحاظ سے پندرہ بڑے بلاکس میں تقسیم کیا گیا تھا لیکن یہ سوفیصد ناکام ثابت ہوا اور لواری ٹنل کی تکمیل اور ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ حل ہونے کے باوجود ابھی تک کسی لیز ہولڈر نے کام نہیں کیا جبکہ مائننگ کے مقامی خواہش مند افراد کی راہیں بھی ان کی وجہ سے مسدود ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ پورے چترال کو 175کلومیٹر بڑے بلاکوں کی بجائے 200ایکڑ کے چھوٹے بلاکوں میں تقسیم کئے جائیں تاکہ مقامی افراد اہلیت حاصل کرکے ان معدنیات کی کامیاب نکاسی کا عمل شروع کرسکیں جس کے نتیجے میں علاقے میں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔سرتاج احمد خان نے مزید کہاکہ نئی آمدہ اطلاعات کے مطابق چترال کے ان بلاکس میں ایکسپلوریشن لائسنس آٹھ سال کی طویل عرصے کے لئے مختلف غیر مقامی کمپنیوں کو جاری کئے جارہے ہیں اوراگر اس پر عمل ہوا تو اس کے بھی بھیانک نتائج مرتب ہوں گے اور ایسوسی ایشن کی پلیٹ فارم سے اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے دونوں اضلاع دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہے اور وسطی ایشیاء اور چین سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ایک بین الاقوامی مارکیٹ بن سکتا ہے۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندو ں نے بڑے بلاکس کے خاتمے میں مائنز ایسوسی ایشن چترال کی مکمل حمایت کا اعلا ن کردیا۔