129

تجار یونین کے عبوری صدر اور کابینہ کا کوئی قانونی جواز نہیں،موجود ہ کابینہ برقرار رہے/شبیر احمد اور دیگر کی پریس کانفرنس

چترال(چ،پ)تجار یونین کے صدر شبیر احمد خان نے حبیب حسین مغل کی بطور عبوری صدر تقرری کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے اور وہ اب بھی صدر کے عہدے پر قائم ہیں، ان کے عہدے کی معیاد میں اب بھی دوسال باقی ہے۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین حاجی عبدالجلیل، شیخ صلاح الدین، کفایت اللہ،حاجی شیر حکیم، اعجاز، احمد کریم، چارویلولطیف اللہ اورجنرل سیکرٹری سراج احمد جغوری کے ہمراہ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا عبوری کابینہ کا شوشہ چھوڑنے والے دراصل بازار میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، عبوری کابینہ تشکیل دینے والوں کو تاجر برادری کی کوئی حمایت حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ سب کو یاد ہے کہ خود حبیب حسین مغل تین مرتبہ پانچ پانچ سال کے لئے صدر بنا رہا جس کا ثبوت یہ ہے کہ 2013 سے 2018ء تک آخری مرتبہ وہ ہی صدر رہے اور اب وہ کس منہ سے تین سال مدت کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2016 میں ضلعی انتظامیہ کو مداخلت کی درخواست کرنے پر یہ طے ہوا تھاکہ آئندہ کابینہ کی مدت تین کی بجائے پانچ سال ہوگی جبکہ غیر معمولی حالات میں ایگزیکٹیو کمیٹی کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایک کابینہ کی مدت کو دوسال کے لئے توسیع دے دے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ عالمی وبائی صورت حال کے پیش نظر ایگزیکٹیو کمیٹی نے بھی اس کابینہ کو دو سال کی توسیع دے دی ہے لہذا حبیب حسین مغل کا اقدام غیر آئینی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تجار یونین کا ابھی تک کوئی متفقہ دستور یا آئین نہیں ہے اور موجودہ آئین اتالیق بازار میں ایک دکاندار کا مرتب کردہ ہے جس کا تاجر برادری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ اس میں لکھے ہوئے قواعد وضوابط اور قوانین اس یونین پر لاگوہوسکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ اب تک ماضی کے تمام صدور نے پانچ پانچ سال کا ٹرم گزارا ہے تو ان کے لئے تین سال کسی بھی طور پرقابل قبول نہیں ہوسکتی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے تاہم واضح کر دیا کہ وہ حبیب حسین مغل اور ان کے ٹولے کے چند افراد کے ساتھ نہیں بلکہ اصل حزب اختلاف کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہے۔