144

بقایا جات کی ادائیگی، ڈپٹی کمشنر چترال حسن عابد کی یقین دہانی پر ہوٹل ایسوسی ایشن نے احتجاج کی کال واپس لے لی


چترال(محکم الدین)چترال ہوٹل ایسوسی ایشن نے ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے کویڈ 19 کے قرنطینہ سنٹرز کے بقایاجات کی ادائیگی کے حوالے سے یقین دھانی کے بعد اپنا احتجاج موخر کر دیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر بقایا جات کی ادائیگی کے سلسلے میں حکومت سے رابطے میں ہیں اور جلد ان کا مسئلہ حل کیا جائیگا۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہو ٹل ایسوسی ایشن ادریس خان جنرل سیکرٹری جمشید احمد و دیگر رہنما سید حریر شاہ وغیرہ نے کہا کہ ہم نے اپنے گذشتہ پریس کانفرنس میں انتظامیہ کو بقایا جات کی ادائیگی کیلئے ڈیڈ لائن دیا تھا جس کے بعد ڈپٹی کمشنر چترال نے میٹنگ منعقد کرکے ہوٹل ایسوسی ایشن کو یقین دلایاکہ کویڈ 19کے دوران گذشتہ سال جن ہوٹلوں کو قرنطینہ سنٹر بنایا گیا تھا حکومت ان بقایا جات کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے، اس لئے ادائیگی ہو کے رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ا س مسئلے کو ایک کیس کی صورت میں وزیراعلی خیبر پختونخوا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور امید ہے کہ بہت جلد یہ بقایا جات صوبائی حکومت کی طرف سے ریلیز ہو ں گے اور ہوٹل مالکان کو ان کا حق مل جائے گا۔ ہوٹل ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا ہم ڈی سی چترال کی بات پر یقین رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی کوششوں پر ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایس او پیز پر عملدر آمد کے ساتھ سیاحتی مقامات کو کھول دیا ہے جو اس شعبے کے لوگوں کیلئے اچھی خبر ہے اور ڈی سی چترال نے چترال کے شناختی کارڈ ہولڈرز کو ECR ٹسٹ میں بھی سہولت دی ہے تاہم غیر مقامی سیاح اب بھی ECRٹسٹ سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور یہ سہولت بھی چترال میں دستیاب نہیں ہے جو کہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں جس کیلئے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر چترال نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کالاش فیسٹول کے دوران لاک ڈاؤن کے باوجود غیر مقامی افراد نے شرکت کی تھی۔ صدر ہوٹل ایسو ایشن نے کہا کہ مجموعی طور پر قرنطینہ سنٹر قرار دیے گئے ہوٹلوں کے تین کروڑ دس لاکھ روپے ضلعی انتظامیہ کے ذمے واجب الادا ہیں جس کی وجہ سے ہوٹلوں کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے اس لئے بقایا جات کی بلا تاخیر ادائیگی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیاں نہیں کی گئیں تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔