85

غیر سرکاری ادارے CADکی طرف سے مستحقین میں امدادی سامان تقسیم کئے گئے

چترال(گل حماد فاروقی) فلاحی ادارے ترقی کیلئے کریٹیو اپروچ فار ڈویلپمنٹ Creative Approach for Development (CAD) اور لاہور کے ایک غیر سر کاری ادارے پاک ایڈ کی جانب سے چترال میں سو افراد میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔ یہ سامان خصوصی طور پر اس ادارے کے زیر سایہ رہائش پذیر 43 یتیم بچوں، بیواؤں اور سفید پوش علماء (مساجد کے پیش امام و خطیب) میں تقسیم کی گئیں۔اسسٹنٹ کمشنر چترال ثلقین سلیم اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جنہوں نے یہ امدادی سامان تقسیم کیا۔
قبل ازیں اے سی چترال کے آ مد پر کیڈ کے چیئرمین شہزادہ مدثر الملک نے انہیں یتیم بچوں کیلئے بنائے گئے ہاسٹل کا دورہ کرایا، اس ہاسٹل میں تیس یتیم بچے قیام پذیر ہیں جبکہ پرانے ہاسٹل میں تیرہ بچے رہتے ہیں۔ ان بچوں کو بنیادی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دیجاتی ہے اور ان کی نماز، تلاؤت، پڑھائی کیلئے باقاعدہ انتظام کیا گیا ہے۔اس موقع پر سادہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چترال ثقلین سلیم نے CADکی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چونکہ حکومتی اداروں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے اور محدود بجٹ کی وجہ سے وہ تمام لوگوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے تاہم غیر سرکاری ادارے حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کررہے ہیں جو یقینی طور پر لائق تحسین ہے۔ انہوں نے CAD اور پاک ایڈ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں چترال کے یتیم بچوں، بیواؤں اور سفید پوش علمائے کرام کے ساتھ مدد کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزدہ مدثر الملک نے کہا کہ ان کا ادارہ سال 2009 سے یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتا ہے پرانے ہاسٹل میں بھی یتیم بچے رہائش پذیر ہیں اور نئے ہاسٹل کیلئے مولانا عماد الدین نے مفت زمین فراہم کردی جس پر ایک اور ہاسٹل تعمیر کیا گیا اس نئے ہاسٹل میں فی الحال تیس 30 یتیم بچے مقیم ہیں جو ضلع لوئیر اور اپر چترال سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر تمام مخیر حضرات اور ڈونرایجنسیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے کمائی میں ان یتیم بچوں کیلئے بھی کچھ رقم مختص کیا کریں جن کا اس زمین پر اللہ کے سواء کوئی سہارا نہیں ہے۔ بعد ازاں مہمان خصوصی نے امدادی سامان تقسیم کیا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اے سی چترال ثقلین سلیم کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری اداروں کو بھی آگے بڑھنا چاہئے اور مصیبت کے اس گھڑی میں وہ حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مستحق لوگوں کے ساتھ مدد جاری رکھے۔امداد لینے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ہم اس ادارے کے مشکور ہیں جنہوں نے یتیم بچوں اور آئمہ کرام کے ساتھ ساتھ بیوہ خواتین کو بھی امدادی پیکیج میں شامل کیا۔ علماء کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا عبد الطیف نے کہا کہ اس ادارے نے علماء، مساجد کے خطیب اور پیش امام کو بھی امدادی پیکیج میں شامل کرکے بہت اچھا کام کیا کیونکہ یہ طبقہ اکثر اپنی سفید پوشی کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا۔ واضح رہے کہ سو مستحق لوگوں کیلئے یہ امدادی سامان آٹا کوکنگ آئل، محتلف دالیں، چینی، چائے،چنا،سویاں،روح افزا شربت،چاول،نمک، لال مرچ، کھجور وغیرہ پر مشتمل تھا۔ علاقے کے لوگوں نے خاص کر یتیم بچوں نے اس ادارے کا بے حد شکریہ ادا کیا کہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ تعاون کیا۔ اس پروگرام میں ایس او پیز کا خاص خیال رکھا گیا تھااور آنے والے لوگوں میں مفت ماسک بھی تقسم کئے گئے تاکہ ان پر کرونا وائر س کا کوئی اثر نہ ہو۔