85

میاں نواز شریف دور کے منظور شدہ منصوبوں کو ختم کرکے پی ٹی آئی حکومت چترال کے ساتھ دشمنی کو واضح کر چکی ہے/مسلم لیگ ن


چترال(بشیر حسین آزاد)پاکستان مسلم لیگ (ن) چترال نے پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف اور اسکے خاندان اور پارٹی کے دیگر قائدین کے حق میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پارٹی قائد اور دیگر راہنماؤں کے خلاف بے بنیاد مقدمات ختم کئے جائیں۔ جمعہ کے روز چترال کے پُرانہ پی آئی اے چوک میں مسلم لیگ ن تحصیل چترال کے صدر محمد کوثر ایڈوکیٹ کی صدارت میں احتجاجی جلسے سے صدر تحصیل محمد کوثر ایڈوکیٹ،صفت زرین، عبدالولی خان ایڈوکیٹ،ساجد اللہ ایڈوکیٹ،جمعیت علماء اسلام کے مولاناعبدالسمیع،جماعت اسلامی چترال کے قیم مولانا اسرار الدین الہلال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات بھی روز بروز ابتر ہوتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ مقررین نے کہا کہ چترال کے ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت کی ناانصافی نا قابل برداشت ہے۔ احتجاجی جلسے میں منظور کئے گئے قرارداد میں کہ قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف، صدر شہباز شریف،نائب صدر مریم نواز سمیت تمام لیگی رہنماؤں کے خلاف میڈیا ٹرائل ازیں بعد ارشد ملک جیسے ججوں کے ذریعے قومی قیادت کو پابند سلاسل کرنے پر احتجاج کیا گیااور لیگی قائدین کے خلاف تما م جعلی مقدمات ختم کرکے اُن کے رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں میاں محمد نواز شریف کے دور کے منظور کردہ بڑے منصوبے چکدرہ ٹو شندور سی پیک لینک روڈ کوختم کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کو موجودہ حکومت کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور فی الفور بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ گولین ہائیڈل پراجیکٹ سیلاب سے متاثر ہوئے مہینوں گذر چکے ہیں مگر واپڈا کی جانب سے غفلت برتنے کیوجہ سے اربوں روپے کا یہ پراجیکٹ مکمل بند ہونے اور چترال پھر سے اندھیروں میں ڈوبنے جارہاہے۔جوکہ ایک بہت بڑا ناقابل تلافی ملکی نقصان ہے لہذا حکومت وقت گولین گول ہائیڈل پراجیکٹ کی طرف فی الفورتوجہ دیتے ہوئے مذکورہ پراجیکٹ بحال کرے اور سو ویلج کونسل تک بجلی کی ترسیل یقینی بنائے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ میاں محمد نواز شریف کا گیس پراجیکٹ جسکا باقاعدہ افتتاح سابق وزیراعظم خاقان عباسی کے ہاتھوں ہونے کے بعد زمین بھی خریدی جا چکی ہے، ٹینڈر بھی کیا جاچکا تھا۔ اور ایک اندازے کے مطابق 2020کے اوائل میں چترال کے عوام اس سے استفادہ کرنے والے تھے۔مگر تبدیلی سرکارنے دوسالوں سے اس گیس پلانٹ پراجیکٹ کیطرف توجہ نہیں دی۔مطالبہ کیا گیاکہ مذکورہ پراجیکٹ پر فی الفور کام شروع کیا جائے۔چترال کے شہ رگ شندور کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری شدہ دستخطوں میں گلگت بلتستان کا حصہ قرار دینے پر شدید احتجاج کیا گیا۔وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت بھی اس معاملے میں چترال کے عوام کو مطمئن کریں۔چترال کے عوام شندور کو گلگت بلتستان کا حصہ قرار دینے کی سازشوں کو مسترد کرتے ہیں اور موجودہ حکومت کو اس جرم عظیم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جلسے میں منظور کئے گئے قرارداد میں کہا گیا کہ مہنگائی،بے روزگاری اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں، ریاست کی عملداری کہیں بھی نظر نہیں آرہی، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ حکومت پاکستان کے لئے سوائے سیکورٹی ریسک ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔لہذا موجودہ حکومت کو فی الفور ہٹایا جاکر صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں۔موجودہ حکومت سوائے جھوٹ بولنے کے،مخالفین کا گلہ دبانے کے،قبر میں سکون فراہم کرنے،جاپان کو جرمنی سے ملانے،بھیگ نہ مانگنے کی قسمیں کھانے کے علاؤبھیک مانگ کے ہڑپ کرنے میں اور پھر اپنے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یوٹرن لیکر عظیم لیڈر بننے کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتے۔