136

گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے وادی گولین میں تباہی مچادیا،علاقہ مکین محصور ہوکر رہ گئے

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے خوبصورت خوبصورت وادی گولین میں سیلاب نے ایک مرتبہ پھر مچادی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز گولین ویلی میں گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے سیلاب(GLOF) نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلادی ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصا ن نہیں ہوا۔سیلاب کے نتیجے میں انفراسٹرکچر کو بری نقصان پہنچا ہے اور علاقے کا رابطہ ضلعے کے دیگر حصوں سے کٹ چکا ہے کیونکہ وادی گولین کا رابطہ سڑک سیلاب برد ہوچکا ہے جبکہ پُل کی سائڈ وال بھی سیلاب میں بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے اس وادی میں آمد و رفت ممکن نہیں رہا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے اکبر عزیز، عبد العزیز،اکبر ولی شاہ کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ ایک دینی مدرسہ کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح علی نور خان، عصمت خان، آمان ربی، رحمت نبی، رحمت ظاہر شاہ کے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ عبد الرزاق اور رحمت ظاہر شاہ کے مویشی خانے بھی مکمل تباہ ہوئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے علاقے میں ایک مسجد کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اکرام نامی شخص کی گاڑی بھی سیلاب کی نذر ہوگئی۔ وادی میں ایک چھوٹے پن بجلی گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔علاقے کے لوگ دشوار گزار پہاڑی راستوں کے ذریعے پیدل چل کر اپنے گھروں یا عزیز و اقارب سے ملنے جانے پر مجبور ہیں۔ علاقے کے سماجی کارکن نبی خان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال سیلاب نے جو تباہی مچائی تھی وہ ابھی بحال بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک بار پھر سیلاب آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ اگر حکومت نے ایمرجنسی نافذ نہیں کیا تو لوگوں کی زندگی گزارنا نہایت دشوار ہوگا کیونکہ جب تک یہاں برفانی تودہ پڑا ہے تب تک سیلاب آتا رہے گا۔ بالائی گولین کے سفیر اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم کافی لوگ نیچے محصور ہوگئے ہیں جبکہ ہمارے عزیز و اقارب گولین میں پھنس چکے ہیں،ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہورہا ہے اور انتظامیہ ہمارا مواصلاتی نظام بحال کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے کیونکہ اس وادی میں پیدل جانے کا بھی راستہ نہیں ہے نہ ہی کوئی ٹیلیفون یا موبائیل فون کام کرتا ہے۔ علاقے کے لوگوں نے افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ اس وادی کے سڑک میں برساتی نالے پر جو آر سی سی پُل تعمیر ہوئے ہیں ان کی سائڈ وال یعنی پُشتوں کو مٹی سے بھرا گیا تھا جو ایک معمولے ریلے میں بہہ گئے اگر یہاں کنکریٹ یا کم از کم پتھر کا بھی دیوار ہوتا تو آج یہ پل بچ جاتے اور لوگوں کا رابطہ منقطع نہیں ہوتا۔
وادی گولین کے لوگوں نے اعلیٰ حکام سے ان لوگوں کی جان و مال کی مستقل بنیادوں پر حفاظت کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ جب تک گلئشیر موجود ہے سیلاب کا خطرہ موجود رہے گا۔
یاد رہے کہ پچھلے سال جولائی کے مہینے میں گولین وادی میں گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آیا تھا جس نے تمام انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا اورواپڈا کا ۸۰۱ میگاواٹ بجلی گھر بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔