155

دروش ٹاؤن کا نواحی گاؤں گوس بنیادی سہولیات سے محروم، اعلیٰ حکام توجہ دیں/اہلیان علاقہ

چترال(گل حماد فاروقی)تحصیل دروش میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جو آج تک حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا کے نظروں سے بھی اوجھل رہاہے۔بلند و بالا پہاڑوں میں گھرے اس پسماندہ گاؤں کا نام ”گوس“ ہے جوکہ یونین کونسل دروش ون میں ہوتے ہوئے بھی حکام کی نظروں سے اوجھل اور توجہ سے محروم ہے۔ اس گاؤں پر آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ضرب المثل بالکل فٹ آتا ہے۔ کیونکہ یہاں جانے کیلئے تنگ اور خطرناک پہاڑی راستے سے سفر کرنا پڑتا ہے، شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اعلیٰ حکام اس گاؤں کا دورہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہاں سات سو کی آبادی ہے مگر ان کیلئے اب تک نہ تو سڑک ہے اور نہ ہسپتال یا سکول۔ ایک غیر سرکاری ادارے نے یہاں جانے کیلئے چند سال پہلے ایک کچہ راستہ بنایا ہے، زیادہ تر لوگ اب بھی پہاڑی راستہ سے پیدل سفر کرتے ہیں۔اس گاؤں میں ایک مکتب سکول قائم ہے اور یہاں بچوں کا کہنا ہے کہ اس سکول کی عمارت مخدوش ہونے کی وجہ سے ہمیں ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔آگے تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں کے بچوں اور بچیوں کو دروش کا سفر کرنا پڑتا ہے، چاہے طوفان، بادوباران ہو یا برف باری یہاں کے بہادر بچے تین گھنٹے پیدل سفر کرکے دروش سکول جاتے ہیں مگر واپسی پر زیادہ وقت اسلئے لگتا ہے کہ پہاڑ پر چڑھ کر آنا پڑتا ہے۔ حکومت نے ابھی تک اس علاقے میں پرائمری سکول قائم نہیں کیا۔اس دورافتادہ گاؤں میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لئے کوئی ڈسپنسری بھی موجودنہیں، لوگ مریضوں کو ان پرخطر راستوں پر طویل سفر طے کرکے دروش ہسپتال پہنچاتے ہیں، معمولی نوعیت کے طبی مسئلے کے لئے بھی اس گاؤں کے لوگوں دروش آنا پڑ تا ہے۔ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، گاؤں کی خواتین دور واقع قدرتی چشموں سے برتنوں میں پانی بھر کر لاتی ہیں۔ اسی طرح آبپاشی کے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے بھی زراعت اور اس سے منسلکہ امور کی انجام دہی میں مشکلات درپیش ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ووٹ مانگنے کیلئے اکثر امیدوار تو یہاں آتے ہیں مگر الیکشن کے بعد سے آج تک کوئی رکن صوبائی یا قومی اسمبلی یہاں نہیں آیا ہے۔
بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی یہاں کے لوگ پتھر کے زمانے کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کے مجبور لوگ صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ ہم بھی اسی ملک کے محب وطن اور پر امن شہری ہیں اور ہمیں بھی ہمارا حق ملنا چاہیے۔