99

خودساختہ سوشل میڈیا چینلز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ،جلد اعلامیہ جاری کیا جائے گا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا حکومت نے سوشل میڈیا چینلز، ویب ٹی اور فیس بک پیجز کے حوالے سے بڑا اور اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے صوبائی حکومت نے خود ساختہ چینلز اور فیس بک پیجز کی بھرمار کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جسکے تحت خیبرپختونخوا میں خود ساختہ ویب چینلز اور فیس بک کے پیچز والے چینلز کے جعلی صحافیوں کے تمام سرکاری دفاتر میں داخلے پر پابندی لگا ئی جائیگی۔انتہائی باوثوق ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں صرف قومی چینلزاور رجسٹرڈ اخبارات کوریج کر پائیں گے اورانہیں داخلے کی اجازت ہوگی، کوئی بھی یو ٹیوب یا ویب ٹی وی کا صحافی کہلانے یا فیس بک پیچ چلانے والا کسی سرکاری ملازم یا افسر سے بیان یا خبر نہیں لیگا اور نہ ہی کوئی سرکاری آفسر کسی ویب چینل یا فیس بک کے کسی بھی بڑے چھوٹے پیچ والے کو انٹرویو یا بیان نہیں دیگا یا فون پر رابطہ نہیں کریگا۔میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف قومی ادارے پیمرا سے رجسٹرڈ قومی نیوز ٹی وی چینلز اور قومی اخبارات کو ہی خبر اور بیان دیا جائیگا۔ تمام سرکاری دفاتر میں فیس بکی نیوز یا ویب ٹی وی والوں کا داخلہ مکمل بند ہوگا۔ سرکاری افسران اور ملازمین کو پابند کیا جائے گا کہ کسی بھی ویب یا فیس بک کے خود ساختہ نیوز چینلز کو کسی قسم کی کوئی نہ خبر دی جائے نہ ہی انہیں پریس کانفرنس میں بلایا جائے،بے شک وہ جو خبر چلائے انکو نہ جواب دیا جائے نہ ہی انکی خبرکو کوئی اہمیت دی جائے۔تمام پریس کانفرنس میں آنے والے معزز نمائندگان کو اپنی شناخت اور ادارے کا نام لازمی بتانا ہوگاجسکے بعد سرکاری پریس کانفرنس میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی اور سرکاری دفاتر میں داخلہ ہوگا۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب حالیہ چند روز میں نام نہاد فیس بکی چینلز اور ویب چینلز کی بھر مار نے صوبائی حکومت کی پریشانی میں اضافہ کردیا اور خود ساختہ ویب اور یو ٹیوب اور فیس بک کے نیوز کے من گھڑت نام بنا کر اور ٹی وی والے لوگو بنا کر سرکاری ملازمین اور شہریوں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچاجبکہ دوسری جانب تمام ضلعی انتظامیہ کو واضع ہدایات جاری کی جارہی ہے کہ تمام ڈی جی پی آر ز اپنے پیچز یا خبروں میں ایسے کسی ویب ٹی وی یا فیس بکی یا یو ٹیوب والوں کی سرکاری خبروں کو بھی پوسٹ یا شیئر نہیں کرینگے کیونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے نام نہاد صحافی سرکاری خبروں کو ایڈیٹ کرکے میوزک لگا کر ضلعی انتظامیہ کی خبروں کو پوسٹ کرتے ہیں جنہیں بعد میں ضلعی انتظامیہ کے ڈی جی پی آرز اپنے اپنے پیچزپر لگاتے تھے جس پر اب مکمل پابندی ہوگی۔ اس پابندی سے جنوئن صحافیوں کو عزت اور مقام ملے گا اور خود ساختہ من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی خبریں چلانے والے اور خود ساختہ صحافیوں کا خاتمہ ہوگا۔حقائق پر مبنی تصدیق شدہ خبروں اور قومی چینلز اور قومی اخبارات کو رتبہ اور مقام ملے گا جو سالانہ کروڑوں روپے ٹیکس دیتے ہیں۔شہریوں اور سرکاری ملازمین کو بلیک میل کرنے والے فیس بکی،یو ٹیوب اور ویب چینلز والے بلیک میلرز کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں بھی داخلے پر مکمل پابندی ہوگئی۔