102

ڈاکٹرز اور ضلعی انتظامیہ چترال کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے فرنٹ لائن پر ہیں،کوششیں قابل ستائش ہیں /وزیر زادہ

چترال (محکم الدین) وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاؤن خصوصی ا وزیر زادہ نے بدھ کے روز چترال میں ڈاکٹروں کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کی جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد حیات شاہ، ڈی ایچ او چترال ڈاکٹر حیدرالملک، ایم ایس ڈاکٹر رکن الدین، ڈاکٹر بلال، ڈاکٹر فیاض رومی،ڈاکٹر قاسم اور جمال الدین ڈی ایس بی موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر زادہ نے کہا کہ کہ ڈاکٹرز اور ضلعی انتظامیہ چترال کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے فرنٹ لائن پر ہیں اور چترال کے ڈاکٹرز کم وسائل اور سہولیات کی کمی کے باوجود شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیر زادہ نے کہا کہ پورا ملک کورونا وائرس کی وجہ سے ایک اضطرابی حالات سے دوچار ہے، ایسے میں سب سے زیادہ ذمہ داری داکٹروں پر پڑی ہے کہ اُنہیں دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کرنی پڑتی ہے اور اپنے جان کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے۔گذشتہ ڈیرھ مہینوں سے داکٹرز دن رات لوگوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں جبکہ ضلع چترال میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد داخل ہو رہے ہیں جنہیں قرنطینہ میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کے اقدام کی بھی تعریف کی کہ چترال میں قرنطینہ کا ایک بہترین نظام موجود ہے جبکہ دوسرے اضلاع میں اس قسم کا مربوط طریقہ کار نہیں دیکھا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے شہروں سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافے سے ڈاکٹروں کو پریشانی کا ضرور سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم ہ میں دستیاب وسائل کو بہتر طریقے سے منیج کرنا چاہیے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 1615افراد 82 قرنطینہ مراکز میں قیام پذیر ہیں جبکہ کئی نئے قرنطینہ سنٹر قائم کئے گئے ہیں تاکہ بعض افراد کو اُن کے علاقوں کے قریب ترین ایریا میں قائم قرنطینہ میں رکھا جاسکے۔ اجلاس میں کام کی نسبت فنڈ کی کمی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا اور دستیاب فنڈ کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ تاہم ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ کو جاری کئے گئے فند کو سراہا گیا تاکہ اس سے ہیلتھ کے گاڑیوں کی مرمت کرکے قرنطینہ مراکز کی وزٹ اور دیگر ضرورتوں پر خرچ کیا جا سکے۔ اجلاس میں ڈاکٹروں نے اس مر کا اظہار کیا کہ بعض قرنطینہ سنٹرز میں کئی افراد کو ایک ساتھ رکھا جاتا ہے جو اجتماعی واش روم استعمال کرتے ہیں جس میں سوشل ڈسٹنسنگ کا نظام بھی صحیح طریقے سے نہیں ہو پا رہا ایسے میں خدا نخواستہ وائرس کے پھیلنے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں جبکہ کامرس کالج ہاسٹل قرنطینہ کو بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا کیونکہ وہاں پازیٹیو کیسز آئے ہیں۔ اس لئے اُس کی صفائی اور دوبارہ استعمال کیلئے ٹائم گیپ رکھنا ضروری ہے۔ اجلاس میں ڈاکٹروں کی کمی پر بھی بات ہوئی جس میں ڈی ایچ او سے ڈی ایچ کیو ہسپتال کو ڈاکٹر دینے کی درخواست کی گئی تاکہ ڈی ایچ کیو کے ڈاکٹروں کی مدد ہو سکے یہ بھی بتایا گیا کہ کوغذی آر ایچ سی میں بارہ ڈاکٹر موجود ہیں لیکن مریضوں کو براہ راست ڈی ایچ کیو منتقل کیا جاتا ہے جو کہ نا قابل فہم ہے۔ڈی ایچ او نے پراپر طریقہ کار کے تحت لیٹر کرنے پردرکار ڈاکٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ اس موقع پر معاون خصوصی وزیر زادہ نے ہدایت کی کہ دیہات کے مریضوں کے پاس ریفر لیٹر نہ ہونے کی صورت میں اُنہیں نہ دیکھا جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، کہ عوام اب بھی حالات کو سنجیدہ نہیں لے رہی جس کی وجہ سے مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈئیلائسز مشین کی فوری مرمت کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گئے اور وزیر زادہ نے یقین دہانی کی کہ چترال کے ہیلتھ کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا، پی ڈی ایم اے اور سیکرٹری ہیلتھ سے خصوصی رابطہ کرکے تعاون کی درخواست کی جائے گی۔