54

چترال میں اگر کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے آیا توکمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر چترال ذمہ دار ہونگے/ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن

چترال(بشیر آزاد)چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے گزشتہ دنوں کرکٹ اسٹار شاہد آفریدی کے چترال آمد کے موقع پرحالات کو خراب کرنے کی ذمہ داری کمشنر ملاکنڈ اور ڈی سی چترال پر ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا جوکہ کورونا وائرس کے خلاف عوامی آگہی اور لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ انتظامیہ نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود ہی قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی جس سے عوام میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے۔ اتوار کے روز امیر جے یو آئی لوئر چترال مولانا عبدالرحمن، نائب ا میر جے یو آئی اپر چترال مولانا فتح الباری،جنرل سیکرٹری جے یو آئی انعام میمن، جے یو آئی کے سنیئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر اورنائب امیر مولانا عبدالسمیع آزاد،امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد،تحصیل صدر پی پی پی عالم زیب ایڈوکیٹ، آل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد کوثر ایڈوکیٹ، ساجد اللہ ایڈوکیٹ اورپی پی پی کے ترجمان قاضی فیصل اور دوسروں کی موجود گی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال کے کسی علاقے میں اگر خدانخواستہ کرونا وائرس سے کوئی متاثر ہوا تو ان دو افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان افسران نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرکے سوشل ڈسٹنسنگ کا بیڑا عرق کرنے کے بعدبرات کی مبارک شب کو محفل موسیقی سجاکر قہر الٰہی کو دعوت دے دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر اور ایم پی اے کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا میں وائرل کردیا گیا جس سے عوام میں مزید بے چینی پھیل گئی۔ انہوں نے کہاکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے پے در پے غلطیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلعے میں تعینات سرکاری افسران کو ان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی ہے جس سے سرکاری ملازمین اور علاقے کا منتخب نمائندہ کا آمنے سامنے آنے کا خطرہ پید اہوگیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دونوں افسران کے خلاف انضباطی کاروائی عمل میں لایا جائے تاکہ کسی اور کو اس طرح کی غلطی کرنے کی ہمت نہ ہو۔
انہوں نے اس اس بات پر زور دیاکہ علاقے کی بہترین مفاد میں اور کورونا وائرس کو علاقے سے دور رکھنے میں عوام احتیاطی تدابیر اور حکومت کے ساتھ تعاؤن کا سلسلہ بدستور جاری رکھیں گے۔اس سے قبل آل پارٹیز اور سول سوسائٹی کے تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس کشیدہ صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لے کر اسے حل کرنے کی تجاویز پر غو ر ہوا۔