129

اپر چترال میں بجلی کا مسئلہ حل نہ ہونا افسوسناک ہے،اگلے ہفتے سخت احتجاج شروع کرینگے/تحریک حقوق عوام اپر چترال

بونی (نامہ نگار) تحریک حقوق عوام اپر چترال نے خبر دار کیا ہے کہ گذشتہ کئی مہینوں سے اپر چترال کے بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا جسکی وجہ سے اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور مزید مہلت نہیں دی جاسکتی۔ تحریک حقوق عوام اپر چترال کی کال پر رحمت سلام لال کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد تحریک کے سیکرٹری اطلاعات محمد پرویزلال کی طرف سے میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپر چترال میں بجلی شدید بحران، اس حوالے سے گذشتہ کئی مہینوں سے کوششو ں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کرنے کی غرض سے اپر چترال کے سیاسی رہنماؤں اور عمائدین نے مشاورت کی۔ اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے اپر چترا ل میں بجلی دستیاب نہیں، مختلف بہانوں سے عوام کو ٹرخایا گیا اور شدید سردی اور برفباری کے ایام میں اپر چترال کے عوام کو تاریکی میں ڈبویا گیا۔اب بھی گولین بجلی گھر کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ مطلوبہ مقدار میں بجلی مہیا کر سکے جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔ اجلاس میں موجودہ ہنگامی صورتحال میں بھی بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے سماجی اور علاقائی مسائل اور مشکلات میں اضافے کی بابت غور کیا گیا۔ شرکاء اجلاس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ رمضان المبارک کا مہینہ قریب آچکا ہے اور اس دوران بجلی عدم دستیابی سے لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ لہذا ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکام اور متعلقہ اداروں کو 13 اپریل تک کی ڈیٹ لائن دیجائے گی اور اگر 13تاریخ تک بجلی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو عوام سخت احتجاج شروع کرینگے کیونکہ کورونا وائرس سے پیدا صورتحال سے زیادہ مشکلات بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہیں۔
اس اہم اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا شیر کریم شاہ، جماعت اسلامی اپر چترال کے امیر مولانا جاوید حسین، مختار احمد لال صدر تحریک حقوق عوام اپر چترال، بابر علی سنیئر راہنماء پی ٹی آئی، قاضی سیف الدین امیر جے یو آئی موڑکہو، سید کفایت شاہ، حسین زرین جنرل سیکرٹری تحریک حقوق عوام، سلامت خان،عیدعلی ودیگر نے شرکت کیں۔