173

سٹار کرکٹر اور سماجی شخصیت شاہد خان آفریدی نے چترال میں پانچ سو گھرانوں میں فوڈ پیکج تقسیم کئے

چترال(محکم الدین)عالمی شہرت یافتہ شخصیت، مایہ ناز کرکٹر اور پاکستان کے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر چترال ٹاؤن میں 500افراد میں راشن پیکج تقسیم کیا۔ تفصیلات کے مطابق قمی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ”شاہد آفریدی فاؤنڈیشن“ کے زیر انتظام کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال سے متاثر ہونے والے خاندانوں میں خوراک کے پیکج تقسیم کرنے کے لئے چترال کے دورے پر ہیں۔ اس سلسلے میں آج جمعرات کے روز ہائی سکول چترال کے اسٹیڈئم میں ایک بڑے اور پروقار تقریب میں شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی طرف سے موجود ہ صورتحال سے متاثرہ چترال کے پانچ سو خاندانوں میں خوراک کے امدادی پیکیج تقسیم کئے گئے۔راشن پیکج تقسیم کرنے کی اس تقریب میں کمشنر ملاکنڈ ریاض خان محسود، ڈپٹی کمشنر چترال لوئر چترال نوید احمد، ڈی سی اپر چترال شاہ سعود، کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل علی ظفر،ڈی پی او چترال وسیم ریاض سمیت سیاسی قائدین اور پانچ سو متاثرین سمیت تقریبا ایک ہزار افراد نے اس تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا میری خواہش تھی کہ چترال آؤں اور اس کیلئے وہ گذشتہ کئی سالوں سے چترال آنے کا پروگرام بناتے رہے لیکن انہیں آج خوراک کے ایک جامع پیکیج کے ساتھ چترال کے لوگوں کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملاجوکہ میری خوش قسمتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال قدرتی نظاروں اور قدیم کلچر کی سر زمین اور بھائی چارہ و امن و آشتی کا گہوارہ ہے جبکہ یہاں کے لوگوں میں بے پناہ محبت و احترام اور نوجوانوں میں صلاحیتوں کے خزانے ہیں لیکن افسوس ہے کہ چترال کے نوجوان صرف پولو کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ چترال کے نوجوانوں کو سپورٹس کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ میں اعلانات پر نہیں عملی کام پر یقین رکھتا ہوں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ کورونا وائرس سے ہوشیار رہیں اور اس سے بچنے کے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ اس موقع پر کمشنر ملاکنڈ ریاض محسود نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہمارے پاس کورونا کے حوالے سے دو مثالیں موجود ہیں۔ ایک چائنا جس نے اپنی احتیاطی حکمت عملی کے تحت کورونا پر قابو پانے میں کامیاب ہواجبکہ دوسری مثال یورپ اور امریکہ کی ہے جنہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیا اور مشکلات میں گھیرچکے ہیں۔ انہوں نے حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور دیگر امدادی پیکج کے ذریعے متاثرہ لوگوں کی ہرممکن مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے شاہد آفریدی کی طرف سے امدادی پیکیج لوگوں میں تقسیم کرنے کے اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ دوسرے مخیر لوگوں کیلئے ایک ترغیب ہے کہ وہ بھی آگے آئیں اور مشکلات میں گھیرے ہوئے لوگو ں کی مدد کریں۔ کمشنر نے کہا کہ یہ اس علاقے کی خوش قسمتی ہے کہ اب تک چترال میں کورونا وائرس کا ایک کیس بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی کا چترال سے محبت واضح ہے کہ وہ کراچی سے چترال کے لوگوں کی مدد کیلئے پہنچے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد نے کہا کہ ہم نے نیچے سے آنے والے تمام لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے، کسی کو بھی قرنطینہ کے بغیر گھروں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاوسز نے ہمارے ساتھ بھر پور تعاؤن کیا۔ ہمیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ چترال کے لوگ یقینا مشکل سے دوچار ہیں لیکن اس قربانی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ چترال اپر اور لوئر اب تک کورونا فری اضلاع ہیں۔ شاہد آفریدی نے اس موقع پر کئی متاثرین میں خوراک کے پیکیج تقسیم کئے۔ تقریب کے موقع پر گراونڈ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہو ا تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ تقسیم پیکیج کے اختتام پر امدادی اشیاء پر ہلہ بول دیا گیا۔ اس وقت سماجی فاصلے کے ہدایات عنقا ہو گئے اور کئی لوگ آپس میں الجھ پڑے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز شاہد خان آفریدی نے دروش کے نواحی گاؤں لاوی میں تیس گھرانوں میں خوراک کے پیکج تقسیم کئے تھے۔