124

جزوی لاک ڈاؤن سے تنگ آکر لوگ پیر کے روز چترال بازار میں امڑ آئے

چترال(محکم الدین)کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے گذشتہ سولہ دنوں سے جزوی لاک ڈاؤن سے تنگ آکر بالاخر لوگوں نے بازاروں، کاروبار اور مالیاتی اداروں کا رُخ کر لیا۔ پیر کے روز چترال بائی پاس روڈ، اتالیق چوک، سیکرٹریٹ روڈ اور کڑوپ رشت بازاروں میں لوگوں کی آمدو رفت معمول کے مطابق دیکھی گئی جبکہ بینکوں کے سامنے لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ اسی طرح یوٹیلٹی سٹور ز میں لوگوں کا ہجوم آٹا اور دیگر اشیاء خوردونوش کی خریداری کرتے ہوئے انتظامیہ کی طرف سے احتیاطی تدابیرکو ہوا میں اڑاتے ہوئے دیکھے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الولی خان کو یہ حالات دیکھ کر چترال لیویز اور پولیس کی اضافی نفر ی طلب کر نا پڑا اور اشیاء خوردونوش کے علاوہ چوری چھپے دکان کھولنے والوں کے خلاف کاروائی کرنا پڑا تاہم بینکوں کے سامنے لوگوں کا ہجوم دفتری اوقات تک موجود رہا۔ دوسری طرف لاک ڈاؤن کے باوجود ملک کے دوسرے حصوں سے چترالی باشندوں اور غیر مقامی ا فراد کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور چترال کے تمام قرنطینہ قرار دیے جانے والے ہوٹلز نیچے سے آنے والے مسافروں سے بھر گئے ہیں جبکہ بعض مسافروں کو اپنے گھروں میں بھی الگ کمروں میں رہنے کی ہدایات دی جارہی ہیں۔ تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض مسافر قرنطینہ سے بچنے کیلئے راستے میں گاڑیوں سے اتر کر اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الولی خان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایاکہ ایسے افراد کے خلاف ہم باقاعدہ کاروائی کرتے ہیں اور پولیس کے ذریعے سے انہیں گھروں سے واپس بلاکر قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے جہاں ان کیلئے انتظامات موجود ہیں۔ قرنطینہ میں موجود بعض مسافروں کی طرف سے یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ قرنطینہ میں مناسب خوراک وقت پر دستیاب نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بزرگ مسافروں کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بار بار چترال نہ آنے کی درخواست کے باوجود روزانہ درجنوں کی تعداد میں لوگ پشاور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں سے راستے میں گاڑیاں بدل بدل کر چترال پہنچ رہے ہیں اور انتظامیہ کے احکامات کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی جبکہ اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر گاڑی مالکان منہ مانگی کرایہ وصول کر رہے ہیں۔
چترال کے عوامی حلقے ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کے نرم رویے پر بھی معترض ہیں کہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود ان لوگوں کو چترال میں داخل ہونے کی اجازت دینا اپر اور لوئر چترال دونوں کو کورونا وائرس فری رہنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ لوئر چترال لواری ٹنل پر اقدامات سخت کرے تاکہ چترال کو کرونا فری رکھا جا سکے بصورت دیگر چترال کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا چترال کا پسماندہ ضلع بالکل متحمل نہیں ہو سکتا۔