194

سید آباد حادثے کا شکار ہونیوالی گاڑی لواری ٹنل پہنچنے والے مسافروں کو لیکر عشریت سے اپر چترال جارہی تھی،پشاور سے آنے کی خبر غلط ہے/ڈپٹی کمشنر چترال

چترال(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز علی الصبح سید آباد کے مقا م پر حادثے کا شکار ہونے والی مسافر فلائنگ کوچ پشاور سے نہیں بلکہ یہ گاڑی عشریت سے چترال کی طرف جارہی تھی اور اس میں اپر چترال سے تعلق رکھنے والے مسافر سوار تھے۔ میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے وضاحتی بیان میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مقامی آن لائن اخبارات میں شائع ہونیوالی خبر میں حقائق کے برخلاف رپورٹنگ ہوئی ہے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔، صحافی رپورٹنگ کرتے ہوئے کم از کم تحقیق کیا کریں بلاتحقیق کے خبریں شائع نہ کریں۔اُنہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بار بار تاکید کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں چترالی عوام چترال آنے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ضلع چترال میں داخل ہوچکی ہے، ان میں سے 346افراد کو چترال میں 30قرنطینوں میں رکھا گیا۔ چترال میں کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے مسافر گاڑیوں کی چترال داخلے پر پابندی لگائی ہے اسوجہ سے اکثر لوگ لواری ٹنل تک گاڑیوں میں پہنچتے ہیں اور ٹنل کو پیدل کراس کرتے ہیں۔ہفتے کے روز جس گاڑی کا حادثہ ہوا اُس میں اپر چترال کے لوگ تھے جو بڑی تعداد میں صبح کے وقت ٹنل کراس کر کے پہنچے تھے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں۔اُن کے لئے ضلعی انتظامیہ لوئر چترال نے انسانی ہمدردی کی بنا ء پر گاڑیوں کا بندوبست کیا اوراُنہیں اپر چترال کے لئے روانہ کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک ایسے پیدل آنے والے سینکڑوں افراد کے لئے گاڑیوں کا بندوبست کرکے اُنہیں اپر ضلع پہنچایا۔ڈپٹی کمشنر چترال لوئر نوید احمد نے ضلع سے باہر چترالیوں سے اپیل کیا کہ وہ ان حالات میں چترال آنے کی ہرگز کوشش نہ کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ یہ ضلع اس موذی وبا ء سے محفوظ رہے۔اُنہوں نے کہا بین الاضلاع کے مسافروں کی آمدورفت پر پابندی عائد کردی ہے جس پر کارروائی کی جارہی ہے۔ چترال کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسافر نجی گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں جس پر حکومت نے پابندی نہیں عائد کی ہے۔ ہفتے کے روز فلائنگ کوچ کا جو حادثہ ہوا وہ پشاور سے نہیں عشریت سے آرہا تھا، یہ انٹرا ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ تھی۔اُنہوں نے کہا کہ پابندی کے باوجود اگر کوئی چترال میں داخل ہونے کی کوشش کریگا تو اُنہیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز سید آباد کے مقام پر گاڑی حادثے کی خبراور تصاویر مقامی میڈیا کو ریسکیو 1122کی طرف سے بھیجی گئی تھیں اور اسی خبر میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ گاڑی پشاور سے چترال آرہی تھی۔