192

چترال ٹاؤن اور ملحقہ دیہات کو بلاتعطل بجلی نہ ملنے کی صورت میں زبردست احتجاج کرینگے/عمائدین کے اجلاس میں فیصلہ

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال لوئر میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حوالے سے مشاورت کیلئے گذشتہ روز چترال کے عمائدین کا ایک اہم اجلاس مولانا اسرارالدین الہلال کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سابق ناظمین، صدر تجار یونین، ڈرائیور یونین اور چترال ٹاؤن کے معتبرات اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کیں۔اجلاس میں چترال ٹاؤن میں حالیہ لوڈ شیڈنگ، گولین گول کی موجودہ 7میگاواٹ پیداوار کی تقسیم اور گولین گول ڈیم کے گیٹ وال سے پانی کے ضیاع پر بحث کی گئی۔ اجلاس کے شرکاء نے گولین گول پاؤر ہاؤس کی موجودہ صورت حال، اس کی پیدار اور اس کی تقسیم پر شدید تحفظات اور برہمی کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ ادارے کی غفلت اور لاپرواہی کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کئے گئے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گولین پاؤر ہاؤس سے بجلی کی تقسیم کے حوالے سے حال ہی میں جو معاہدہ ایم پی اے چترال اور ضلع اپر چترال و لوئر چترال انتظامیہ کے درمیان ہوا ہے اسے فوراً ختم کرکے چترال ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے اور موجودہ لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہیکہ گولین گول پاؤر ہاؤس ڈیم کے گیٹ وال کی مرمت کرکے پانی کے نکاس کو بند کرنے کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں تاکہ پاؤر ہاؤس کو مطلوبہ مقدار میں پانی مل سکے اور بجلی کی پیداوار بڑھ جائے۔شرکاء اجلاس یہ مطالبہ کیا کہ اپرچترال اور لوئر چترال کے درمیان بمقام شاہ چار میں ایک بریکر بھی نصب کی جائے تاکہ اگر اپر چترال کے لائن جو کہ بہت طویل ہیں میں شارٹ سرکٹ کی صورت میں بریکر کو بند کر کے لوئر چترال کی بجلی کو فوری بحال رکھی جاسکے۔ اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حالیہ برفباری کی وجہ سے لواری ٹاپ ایریا میں جو ٹاؤر گر چکے ہیں انہیں دوبارہ نصب کرنے کے اقدامات کرکے چترال کو نیشنل گرڈ سے بجلی مہیاکی جائے۔ شرکاء اجلاس نے خبردار کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اس قرارداد پر عملدرآمد نہ ہوا تو اگلے جمعے کو چترال میں زبردست احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔