206

آغاخان ہیلتھ سروس کے زیر اہتمام کمیونٹی مڈوائفز کیلئے موبائل ہیلتھ ورکشاپ کا انعقاد

چترال (نذیر حسین شاہ)آغاغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کے ایکسس(AQCESS) پراجیکٹ کے تحت کمیونٹی مڈ وائفوں کے لئے منعقدہ موبائل ہیلتھ ورکشاپ میں بتایاگیا کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ضلعے کے دوردراز علاقوں میں حاملہ خواتین تک تربیت یافتہ دائیوں کی رسائی اور ان کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اس ادارے کی ہیلتھ سیکٹر میں جدت پسندی کی علامت ہے جس کے بہترین نتائج برآمد ہورہے ہیں اور حاملہ خواتین اور زچہ وبچہ کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ چترال بھر سے آئے ہوئے مڈوائفوں کے لئے منعقدہ اس موبائل ورکشاپ کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے اے کے ایچ ایس کے ریجنل منیجر معراج الدین نے کہاکہ یہ ادارہ 1962سے چترال میں صحت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہے جس کے ساتھ اس وقت 4ہسپتال اور 30بیسک ہیلتھ سنٹرز کام کررہے ہیں جوکہ دو لاکھ آبادی کو براہ راست ہیلتھ کیر سروس دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رسائی، ہیلتھ کیر سروس میں کوالٹی اور ادارجاتی استحکام اس ادارے کے تین بنیادی مقاصد ہیں جبکہ چترال کی مخصوص جغرافیے کے پیش نظر رسائی ایک اہم مسئلہ رہا ہے جس پر ادارے نے خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے کہاکہ گورنمنٹ آف کینیڈا کی مالی معاؤنت اور آغا خان فاؤنڈیشن کی مدد سے ایکسس پراجیکٹ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے اور کمیونٹی مڈوائفوں کی تقرری اور تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو موبائل فون پر مخصوص ایپ کی فراہمی اس پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال بھر سے ایسے مڈوائفوں کو اس ورکشاپ میں ایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

اس موقع پر لوئر چترال کے شیعہ اسماعیلی کونسل کے صدر ڈاکٹر ریاض حسین صدر محفل تھے جبکہ محکمہ صحت چترال کے ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کوآرڈنیٹر ڈاکٹر سلیم سیف اللہ مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر ریاض حسین نے ہیلتھ کیئر میں مقدار کی بجائے معیار پر زور دیتے ہوئے کہاکہ موبائل ہیلتھ پراجیکٹ میں بہتری لانے کے مڈوائفوں پرمشتمل ورک فورس کی عملی تجربات سے استفادہ کیا جائے اور انہیں اپنے تجربات بیان کا موقع دیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹر سلیم سیف اللہ نے اے کے ایچ ایس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ ادارہ حکومت کا ممد ومعاون ہے اور دوردراز علاقوں میں علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی انتہائی مشکل کام ہے جسے یہ بخوبی نبھارہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ای پی آئی کوارڈینیٹر ڈاکٹر فیاض رومی نے موبائل ہیلتھ پراجیکٹ کو نہایت سودمند اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے اس بات پر بھی زوردیاکہ فیلڈ میں حاصل ہونے والے ڈیٹا کو محکمہ صحت کے ساتھ شیئر کئے جائیں جس سے حکومت کو پلاننگ میں مددملے گی۔ اس سے قبل اے کے ایچ ایس کے منیجرز قدر النساء، نصرت جہان اور انور بیگ نے ایکسس پراجیکٹ اور خصوصی طور پر موبائل ہیلتھ کے حوالے سے نگہداشت پروگرام کی تفصیلات بیان کی۔ آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ کے ریجنل پروگرام امیر محمد خان اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے منیجر امتیاز احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر ادارے کی طرف سے مہمانوں کو سونیئر پیش کئے گئے۔