78

دھاندلی کی پیداوار حکومت کی کارکردگی صفر ہے، ہر صورت استعفیٰ لینگے/قائدین متحدہ اپوزیشن

چترال(بشیر حسین آزاد)متحدہ اپوزیشن کے قائدین امیر جمعیت العلماء اسلام مولانا عبد الرحمن، ایم پی اے مولاناہدایت الرحمن،پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری محمد حکیم ایڈوکیٹ، پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد کوثر ایڈوکیٹ، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر عیدالحسین، ممبر صوبائی بارکونسل عبدالولی ایڈوکیٹ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت کے قائد مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو کامیاب بنانے اور موجودہ حکومت کا بستر بوریا گول کرنے تک مارچ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں مولانا عبدالرحمن کی زیر صدارت اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر جمعیت کے آزادی مارچ کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ اور کہا۔ کہ موجودہ سیلیکٹڈ حکومت بُری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اور قیام پاکستان کے بعد اتنی بد ترین حکومت عوام نے نہیں دیکھی۔ ملک معاشی بد حالی کا شکار ہے، ترقیاتی منصوبے مکمل طور پر بند ہیں۔ چترال کے آمدورفت کا واحد ذریعہ لواری ٹنل اپروچ روڈ کی تعمیر بند ہو چکی ہے۔ اور دو ضلعوں میں کسی بھی قسم ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔

لوگ فاقوں سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ لوگوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ روز گاردینے کے دعوے کرنے والے لوگوں کا رو زگار چھین رہے ہیں۔ اور ملک میں بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت ہے۔ کسی بھی شعبے میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔ ان حالات میں قائد جمیعت مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ عوام اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ موجودہ نا اہل حکومت سے نجات حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا۔ کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو بیماری کے باوجود علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی۔ خصوصا ًنواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کے باوجود اُس کو صحیح طر یقے سے علاج کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ حالانکہ وہ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے۔ کہ موجودہ حکومت دانستہ طور پر اُن کو جانی نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ اور اگر ایسا کیا گیا۔ تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سیلکٹڈ حکومت نے مدینہ کی ریاست کا نام لے کر مدینہ کی ریاست کی توہین کی ہے۔ کیونکہ اُن کی ایک بات بھی ریاست مدینہ کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام اپوزیشن پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ حکومت سیلکٹڈ نہیں الیکٹیڈ ہونی چاہیے اس لئے اپوزیشن نے ابتدا ہی سے اس حکومت کو قبول نہیں کیا۔ اور اب جب کہ حکومت کی نا اہلی اور ناکامیاں اپنی حدیں عبور کر چکی ہیں۔ تو اپوزیشن نے ملک کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے آزادی مارچ کو سپورٹ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازین امیر جے یو آئی مولانا عبد الرحمن نے کہا۔ کہ 30اکتوبر کو چترال سے جے یو آئی کا قافلہ مارچ میں شرکت کیلئے روانہ ہو گا۔ یہ قافلہ کسی بھی قسم کے ہتھیار، ڈنڈا، غلیل وغیرہ سے پاک ہو گا۔ اور نہتے لوگوں کا یہ مارچ اپنی منزل اسلام آباد کی طرف روان دوان ہو گا۔ جبکہ سینکڑوں کارکن پہلے ہی چترال سے نکل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ عدالت نے مارچ کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پٹرول پمپ، ہوٹلوں، دکانوں، ورکشاپ، خوراک کے سٹورز اور ٹرانسپورٹ بند کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ حکومت نے مارچ والوں کو جِنّات قرار دیا ہے انہوں نے کہاکہ چترال کی انتظامیہ اور دیگر ادارے ہمارے کارکنان سے بار بار مختلف سوالات کرکے اُنہیں تنگ کر رہے ہیں۔ جو کہ بند ہونے چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ انشا اللہ اسلام آباد میں انسانوں کا سمندر اُمڈ آئے گا جس کا موجودہ حکومت مقابلہ نہیں کر سکتا۔پریس کانفرنس کے موقع پر جے یو آئی اور دیگر پارٹیوں کے کارکناں سے پریس کلب ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔