258

جو چلا گیا، دوست تھا میرا/تحریر: افگن رضا

افسوس صد افسوس، دل نہیں مانتا، دماغ منتشر ہے، وہ لغل بدخشان تھا، گوہر نایاب تھا۔۔اساس سکول کے ہونہار طالب علموں کے صف اول میں شامل، اپنے تمام کلاس فیلوز سے مختلف طالب علم، اساتذہ کی آنکھ کا تارہ اور انتہائی خوش باش۔ پشاور یونیورسٹی میں بہت مقبول، چترالیوں کیلئے پہچان تھے۔۔۔
کھوار ادب و ثقافت سے دلی لگاؤ و محبت تھی، وہ سادات فیملی کے چشم و چراغ ہونے کو باوجود کھوار گائکی میں نمایاں اور مختلف مقام حاصل کر چکے تھے۔جب کبھی گنگناتے تو سامنے والا داد دیئے بغیر رہ نہیں پاتا، بات کرتا تو دل کو چھُو لیتا، آپ کو لگے کہ یہ شخص بولتا رہے اور میں سنتا رہوں، باتوں میں ہنستے تو سامنے والے کا دل تمام پریشانیوں سے مبرا ہوکر باغ باغ ہو جاتا۔۔۔۔
وہ اپنے والد صاحب کے بہترین دوست تھے، اپنے والدہ کی بہترین اولاد، گھر کے کاموں میں ان کی مدد کرتے، وہ اپنے بھائیوں کے اعلیٰ رفیق تھے، میرے دیس کے تمام لوگ اُن کے اخلاق و شرافت کے بارے میں ہمیشہ سے بات کرتے اور ان کو بہت پیار کرتے، انکے دلداہ تھے۔۔
ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ فورم آوی، جو ہماری ایک تنظیم ہے، وہ اس کے بانی ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ فنانس سیکرٹری بھی تھے، انتہائی متحرک،(devoted)، جب کوئی کام انکے سپرد ہوتا تو اتنی اچھی طرح سے کرتے کہ انہیں داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا، وہ اپنے سے چھوٹوں کی باتوں کو بھی نہیں ٹالتے، حساب کتاب میں ماہر تھے، زیادہ تر چیزوں کو زبانی یاد کرتے۔۔۔ وہ بہت سارے تخلیقی صفات سے اور انتہائی محبت بھرے جوان تھے۔۔۔
ایک شخص میں اتنی صفات ہونے کے باوجود”وفات“ کا لفظ اُس کیلے استعمال کرنا اچھا نہیں لگتا کیونکہ وہ اپنے بہترین اخلاق، شرافت، نرم گفتارء، شفقت، محبت اور دیگر اعلیٰ صفات پر مشتمل شخص دلوں میں زندہ رہتا ہے، انکی یہ ساری خوبیاں معاشرے میں تا قیامت تک زندہ جاوید رکھیں گی۔

حسن تابان!!! ہم تمہیں بھلا  نہ پائینگے۔