54

بورڈ کے امتحانات اور ہمارے فیصلے/تحریر:محمد جاوید حیات


یہ توسب کو اندازہ ہے کہ کووڈ کی وجہ سے ہماری تعلیم کا بیڑا غرق ہوگیا۔۔سکول بند رہے،بچوں کی پڑھائی متاثر نہیں بلکہ برباد ہوگئی۔خاص کر سرکاری سکولوں میں جہاں پسماندہ علاقے کے غریب بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں وہ تو بالکل ان پڑھ ہوگئے یہ سب لوگوں کی رائے ہے لیکن ایسی بھی تباہی نہیں ہوئی۔۔حکومت کے احسن اقدامات ہوئے اور قوم نے ذمہ داری کا ثبوت دیا کہ کووڈ کی کوئی بھی لہر یہاں پر دوسرے ملکوں کی طرح تباہ کن نہیں رہی۔لیکن سکولوں کی بندش کی منطق ہمیشہ سمجھ سے با لاتر رہی۔کوئی ادارہ کوئی اجتماع گاہ کوئی محکمہ اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا سکول اور دوسرے تعلیمی ادارے ہوئے۔ پچھلے سال مجبوری تھی بچوں کو بغیر امتحان کے اگلی کلاسوں میں ترقی دی گئی اس وقت بھی وہ بچے جو پڑھاکو اور محنتی ہیں بہت متاثر رہے۔اب اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کی شدت اتنی نہیں اکثر اضلاع میں ادارے کھلے ہیں تعلیمی عمل ہورہا ہے بلکہ بچوں کے نصاب نئے تعلیمی کیلنڈر کے مطابق مکمل ہیں بچوں کی امتحان کے لیے بھر پور تیاری ہے لیکن ہمارے وزرائے تعلیم کی میٹنگزاور فیصلے بچوں کو ذہنی مریض بنا دیے ہیں۔ہفتہ وار میٹنگزہوتی ہیں اور ہر میٹنگ میں فیصلے بدلے جاتے ہیں۔ میں ایک استاد کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ بچوں کا کورس مکمل ہے۔تیاری کرنے والوں کی تیاری بھی مکمل ہے ان کا سارے مضامین میں امتحان لیا جائے تو مسئلہ کوئی نہیں البتہ اعتراض کرنے والے بچے وہ ہیں جو پڑھاکو نہیں ہیں۔پچھلے سال ستمبر تا دسمبر ٹھیک ٹھاک پڑھائی ہوئی۔نصاب کم کیے گئے تھے اس کے مطابق کورسس تقریبا ًآخر رہ گئے تھے پھر مارچ اپریل کے کچھ دن مئی کے کچھ دن جون کا مہینہ ان شا اللہ پورا ہوگا اس لحاظ سے سارے اساتذہ نے بچوں سے بھرپور تیاری کروائی ہے اب کورسز کم کرنے بار بار امتحانات کی مقررہ تاریخ بدلنے کا مقصد کیا ہے؟امتحانات ایس او پیزکے تحت ہونگے بار بار تواریخ بدلنے سے بچوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔جن بچوں نے امتحانات کی تیاری کی ہے وہ ذہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں ان کے سامنے ان کا کیرئیر ہوتا ہے روشن مستقبل ہوتا ہے اگر دو چار مضامین میں ایک تجرباتی ٹسٹ لیا جائے تو آگے ان کی ڈی ایم سیزکس طرح بنیں گی ان کے گریڈ اور اگریگیڈ کا کیا ہوگا۔یہ بچے جو نویں تا بارویں جماعتوں میں امتحان دے رہے ہیں آگے ان کی پوری زندگی کا انحصار ان دو چار سالوں پر ہے یہ ان کا پرائم ٹائم ہے اس کا خیال رکھنا چاہیے اس کے لیے اساتذہ والدین اور بچے خود ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔ایس او پیزپر سختی سے عمل کیا جائے گا۔امتحانی سنٹروں میں خاص انتظامات ہونگے امتحانی عملہ پوری تن دہی اور خلوص سے کام کرے گا اور بچے جوش و جذبے سے امتحان دینگے لیکن اگر اسی طرح تواریخ بدلتے جاینگے امتحانی شیڈیول اور مضامین کی جھنجھٹ رہے گی تو یہ بچے تباہ ہو جائینگے۔ہمارے فیصلوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلے خوب سوچ بچار کے بعد نہیں کیے جاتے۔ صرف بچوں کی صحت کو اہمیت دی جاتی ہے ان کی محنت احساسات اور مستقبل کو اہمیت نہیں دی جاتی۔۔کویڈ متاثرین میں اس عمر کے بچوں کی ریکارڈ نہیں۔ ان شا اللہ کوئی بچہ متاثر بھی نہیں ہوگا اس لیے ایک استاد کی حیثیت سے درد مندانہ اپیل ہے کہ امتحانات کے طریقہ کار ترتیب اور تواریخ نہ بدلی جائیں اللہ ہماری مدد کرے گا۔