76

سیاحت کی بربادی کا پروگرام/تحریر: بشیر حسین آزاد

حکومت نے وبائی مرض کا جھوٹا بہانہ بناکر چترال،گلگت،سوات اور دوسرے سیاحتی مقامات کے راستوں پر غیراخلاقی لاک ڈاؤن لگانے کا اعلان کیا ہے اس اعلان سے ملکی اور غیرملکی سیاحوں کی نقل وحرکت بند ہوجائیگی سینکڑوں گروپوں کے پروگرام منسوخ ہوجائینگے۔کچھ لوگ افغانستان،نیپال،بھارت اور سری لنکا جائینگے اس طرح پاکستان کو سیاحوں کے لئے پُرکشش بنانے کا خواب چکناچور ہوجائے گا ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ بھارت نے سیاحت پر پابندی نہیں لگائی پاکستان میں سیاحت پر پابندی لگ گئی افغانستان شورش زدہ ملک ہونے کے باوجود سیاحوں پرپابندی نہیں لگاتا،نیپال نے سیاحوں کے لئے اضافی مراعات کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے ٹورزم کیلنڈر میں اس سال مئی کا مہینہ دووجوہات سے خصوصی شہرت رکھتا ہے مسلمانوں کا تہوار اور عید الفطر اس مہینے میں آتا ہے چترال میں کالاش اقلیت کا مشہور تہوار چلم جوش یا جوشی اسی مہینے آتا ہے اور دنیا بھر کے سیاح کالاش وادیوں کی سیر کے لئے چترال کا رُخ کرتے ہیں۔ملکی سیاحت بھی کچھ کم اہم نہیں گذشتہ 3سالوں کا ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ کالاش تہوار کے موقع پر ہزاروں ملکی اورغیر ملکی سیاح چترال آتے ہیں سیاحوں کی آمدرفت سے صرف ایک تہوارکے 7دنوں میں کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور کاروبار سے غریب دیہاڑی داروں اور مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے۔حکومت نے بلاجواز پابندی لگاکر سیاحت کے فروغ کے تمام اعلانات کی نفی کی ہے۔اب حکومت کے کسی بھی اعلان پر عوام کا بھروسہ نہیں ہوگا۔خیبرپختونخواہ میں سوات اور چترال کو سیاحت کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے لاکھوں غریبوں کا روزگار سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہے کورونا کسی کو مارے یانہ مارے سیاحت پر ناروا پابندی کا فیصلہ معاشی طورپر پر غریبوں کی زندگی چھین لیگا۔چترال میں کاروباری طبقے کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے،ٹرانسپورٹ،ہوٹل اور کاروبار کے مختلف شعبوں سے وابستہ تاجروں نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمود خان سے اپیل کی ہے کہ غریبوں کو معاشی قتل سے بچانے کے لئے عید اور کالاش تہوار چلم جوش کے موقع پر سیاحت کے لئے تمام راستوں کو کھول دیاجائے اور سیاحوں کی آمدورفت پر عائد پابندی ہٹا کر سیاحت کے شعبے سے وابستہ غریب،محنت کش اور مزدور طبقے کو معاشی قتل سے بچایا جائے۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید کی خدمت میں عرض ہے کہ سوموٹو نوٹس لیکر سیاحت کے شعبے کو آزاد کرنے کا حکم دیا جائے۔

نوٹ: ادارے کا مراسلہ نگار یا مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، کسی بھی مضمون یا مراسلے کے مندرجات مصنف کے خیالات اور رائے سمجھی جائیں۔ (ادارہ)