144

ثقافتی یلغار/تحریر:محمد شریف شکیب

ثقافت کسی قوم یا معاشرے کی تہذیب و تمدن، رہن سہن، اقدار، روایات،تاریخ اورمعاشرتی حیثیت کی عکاس ہوتی ہے۔ان دنوں ثقافتی پروگراموں کے نام پر جو تماشے لگائے جاتے ہیں انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ہماری ثقافت کا حلیہ دانستہ طور پر بگاڑنے کی شعور یا لا شعوری کوششیں جاری ہیں اگر اسے نہ روکا گیا تو ہمارا کلچر صرف تاریخ کی کتابوں تک ہی محدود رہے گا۔اپنی ثقافت سے پیار کرنے والے ایک چترالی نوجوان نے بھی یہی شکوہ کیا کہ حکومت اور اداروں کی سطح پر چترالی ثقافت کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو کالاش ڈانس یا ڈھول کی تھاپ پر چترالی رقص کو دکھا کر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہی چترال کی ثقافت ہے۔ بیشک کالاش قبیلہ اپنے رہن سہن،غم اور خوشی منانے کے انداز، بود و باش اور رسومات کی وجہ سے پورے ملک میں منفرد ہے لیکن وہ چترال کی ثقافت کا ایک چھوٹاسا حصہ ہے۔ چترالی ثقافت یہ ہے کہ پہاڑوں میں محصورچترالی قوم پیدائشی اور فطری طور پر مہذب،پر امن،اپنی مٹی سے والہانہ محبت کرنے والے اورعلم کے دلدارہ ہیں۔ وہ حد درجے کے مہمان نواز ہیں، اگر کوئی اپنا مکان تعمیر کررہا ہو توسب سے پہلے مہمان خانہ تعمیر کراتا ہے۔ امانت دار اتنا کہ امانت کی حفاظت کی خاطر اپنی جان بھی نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اور اپنی ان خصوصیات کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں پیدائشی مہذب قوم ہونے کا اعزاز رکھتی ہے اور چترالی قوم کا یہ اعزاز نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لئے باعث فخر ہے۔یہی کلچر پٹھانوں، پشاوریوں، سرائیکیوں، گوجری زبان بولنے والوں کابھی ہے لیکن فلموں، سی ڈی ڈراموں، تھیٹر، سٹیج شوز اور ٹی وی ڈراموں میں جو کلچر دکھایا جاتا ہے وہ عملی زندگی میں کہیں بھی نظر نہیں آتا۔پٹھانوں کی روایت مہمان نوازی، دلیری، جفاکشی، دوستی نبھانے، ایمانداری اور دیانت داری کی ہے۔ ڈھول، رباب اور بیہودہ رقص کو پٹھان کلچر قرار دینا اس کلچر کی توہین ہے۔ اگر آپ کسی قوم کی ثقافت کا تنقیدی جائزہ لے رہے ہوں تو کسی دور میں اس ثقافت میں شامل ہونے والی خرافات کا ذکر کرسکتے ہیں لیکن انہی خرافات کو ثقافت سے تعبیر کرنا اس قوم کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ثقافت میں تو موسیقی، آلات موسیقی اور ادبی شہ پارے بھی آتے ہیں اس خطے میں ایسے شہ پارے تخلیق ہوئے ہیں جن کی پوری دنیا میں دھوم ہے۔ اس سرزمین سے جنم لینے والے شاعروں، ادیبوں، مصنفوں، آرٹسٹوں، موسیقاروں، صدا کاروں اور فن کے نادر نمونے تخلیق کرنے والوں کا ذکر کیا جائے تو کئی دیوان بن جائیں گے۔ مگر انہیں ثقافت کے دائرے سے باہر رکھا جاتا ہے۔ یہاں کے شاعروں نے وہ کلام تخلیق کیا ہے جن کا مقابلہ یورپ، یونان اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے اعلیٰ ترین تخلیق کاروں سے کیاجائے تو ہمارے تخلیق کار قد میں زیادہ اونچے نظر آتے ہیں لیکن دور کے ڈھول سہانے کے مصداق ہمیں اپنے گھر کی مرغی بھی دال جیسی نظر آتی ہے ہم اپنی ثقافت سے جڑی روایات اور اقدار کو ایک ایک کرکے بھلا رہے ہیں۔ کوا چلے ہنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول جانے کے مصداق ہم دوسروں کی نقالی کرکے ان کی طرح تو نہیں بن سکتے البتہ اپنے اقدار سے دور ہوتے جارہے ہیں۔اس دور میں اگر کوئی اپنی زبان، ثقافت، ادب، تہذیب اور اقدار کو زندہ رکھنے کی سعی کرتا ہے وہ حقیقی معنوں میں قوم کا محسن ہے۔ہمارے ایک ایسے ہی ادیب دوست نے انگرستانو کے نام سے پہلا کہوار افسانہ حال ہی میں تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے کم از کم ایک ہزاران کہوار الفاظ کو پھر سے زندہ کیا ہے جو اب متروک ہوچکے ہیں اور پانچ سو سے زیادہ ان رسومات اور روایات کی عکاسی کی ہے جن کی پیروی کرنا موجودہ دور میں ہم دقیانوسی سوچ قرار دیتے ہیں۔بیرونی ثقافتی یلغار کی تنبیہ کافی عرصے سے کی جارہی تھی۔ لیکن کسی نے اس کی روک تھام کے لئے کوئی سنجیدہ اور عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اور ہم غیر محسوس طور پر خود کو اس یلغار کے حوالے کرتے رہے۔ بھارتی ٹی وی ڈراموں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہیں دیکھ کر بچے اور بوڑھے بھی آپس میں اسی لب و لہجے میں بات کرنے لگے ہیں۔اگر کوئی فرق رہ گیا ہے تو گھروں میں پتھر کی مورتی رکھ کر اس پر چڑھاوے چڑھانے کا ہے۔انہیں شاید شاعر مشرق کے یہ الفاظ نہیں معلوم جو انہوں نے ہندو ثقافت کے بارے میں کہا تھا کہ۔

سچ کہہ دوں اے برہمن، گر تو برا نہ مانے تیرے صنم کدوں کے بت ہوگئے پرانے
پتھر کی مورتی میں سمجھا کہ تو خدا ہے لیکن میرے وطن کا تو ہر زرہ دیوتا ہے