رکن صوبائی اسمبلی فاتح الملک علی ناصر کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کا شدید احتجاج، فوری رہائی کا مطالبہ

چترال (بشیرحسین آزاد) چترال سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے ضلعی صدر فاتح الملک علی ناصر کی گرفتاری کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینکڑوں کارکنان نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔
احتجاجی جلوس کی قیادت سینیٹر فلک ناز، پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری سید فرید جان، نوید احمد بیگ، شاہد احمد، ہارون خان، حیات الرحمن، شفیق الرحمن، محمد قاسم، نبیگ شراکٹ، نذیر احمد اور شاہ زیب عالم سمیت دیگر مقامی رہنما کر رہے تھے۔
مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے چترال پریس کلب پہنچے، جہاں پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی راہنماؤں نے کہا کہ 30 ہزار سے زائد عوام کے منتخب نمائندے فاتح الملک علی ناصر کی گرفتاری ملک میں ظلم اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ گرفتاریوں اور انتقامی ہتھکنڈوں سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے جذبے کو نہیں دبایا جا سکتا، تمام کارکن اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے راہنماوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو بھی غائب کر دیا گیا ہے، ایسی ظلم و بربریت ملک میں مارشل لا کے ادوار میں بھی نہیں دیکھی گئی۔
سینیٹر فلک ناز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پاکستان کے غریب عوام کی امیدوں کا مرکز اور عالم اسلام کے عظیم قائد ہیں، انہیں راستے سے ہٹانے کا گندا کھیل کبھی کامیاب نہیں ہوگا، اور "لاٹھی گولی کی سرکار” کا وقت ختم ہونے والا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر کی فوری اور بلاشرط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک فاتح الملک کو گرفتار کیا جائے گا تو ملک بھر میں کروڑوں فاتح الملک میدان میں نکلنے کے لیے تیار ہیں۔