چترال میں سٹامپ پیپرز کی شدید قلت، قانونی و عدالتی معاملات ٹھپ، سائلین خوار

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال اور گردونواح میں سٹامپ پیپرز کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث زمینوں کی خرید و فروخت، حلف ناموں کی تیاری اور دیگر ضروری قانونی و عدالتی معاملات مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔
پشاور سے سپلائی کی معطلی اور ای سٹامپنگ کے نفاذ میں انتظامی پیچیدگیوں نے عوام کو شدید ذہنی و مالی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور سے سٹامپ پیپرز کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے ضلعی کچہری اور مختص کردہ مراکز پر سٹامپ پیپرز دستیاب نہیں ہیں۔
ای سٹامپنگ کے نئے نظام کے تحت چترال میں بینک آف خیبر کو سٹامپ پیپرز کی فراہمی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم وہاں غیر معمولی رش اور اسٹاک ختم ہونے کی وجہ سے اب عوام کو عید الفطر کے بعد آنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
سٹامپ پیپرز نہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص اپر چترال اور دیگر دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
ہزاروں روپے کرایہ خرچ کر کے کچہری پہنچنے والے سائلین سارا دن لائنوں میں لگنے کے بعد خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہیں۔ اس حوالے سے متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم دور دراز کے علاقوں سے کرایہ بھر کر آتے ہیں لیکن یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ سٹامپ ہی موجود نہیں، حکومت نے متبادل انتظام کیے بغیر پرانا نظام بند کر دیا جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔
شہریوں اور قانونی ماہرین نے اس بحران پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید سے قبل اس مسئلے کا حل نہ ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ اس بحران کا فوری نوٹس لے اور پشاور سے سٹامپ پیپرز کی ہنگامی بنیادوں پر ترسیل کو یقینی بنایا جائے اور ای سٹامپنگ کے نظام کو سادہ اور سہل بنایا جائے تاکہ بینکوں میں رش کم ہو سکے۔
واضح رہے کہ اسٹمپ فروشوں کے پاس عام سٹامپ کی فروخت بند کر کے صرف ای سٹامپ جاری کرنے کے حکم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے سائلین کے ادھورے کام عید کے بعد تک لٹک گئے ہیں۔