چترال کے بازاروں کو زبردستی بند کرنے کی مذمت کرتے ہیں،پی ٹی آئی کا شو ناکام ہوگیا/سلیم خان
پی ٹی آئی نے چترال جیسے پر امن علاقے میں غلط روایت کو جنم دیا ہے، بیان

چترال(ن،ڈ)سابق صوبائی وزیر و پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے دیئے گئے ہڑتال کو چترال کے عوام نے مسترد کر دیا مگر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اپنے مقامی لیڈران کے کہنے پر چترال کے مختلف بازاروں کے دکانوں کو زور زبردستی بند کرکے ایک غلط مثال قائم کردیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
یہ کس قانون میں ہے کہ ایک سزایافتہ قیدی کی رہائی کیلئے لوگوں کے کاروبار کو زور زبردستی بند کیا جائے۔
یہ ھمارے صوبے کے عوام کی بدقسمتی ہے۔ کہ ایک پارٹی کو صوبے میں مینڈیٹ ملنے کے باوجود عوام کی خدمت کرنے کے بجائے روانہ روڈوں اور بازاروں کو بند کرکے عوام اذیتیں دی جا رہی ہے۔
یہ اس پسماندہ صوبے کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ پچھلے تیرہ سالوں سے پی ٹی آئی کو مسلسل اقتدار ملنے باوجود صوبے میں ترقی کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔
بے روزگاری، بدامنی اور کرپشن انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ مگر حکمران صرف ایک سزا یافتہ قیدی کی رہائی کیلئے صوبے وسائل کو بھی بے دریغ ضائع کررہے ہیں اور دوسری طرف عوام کو بھی آیے دن ہڑتال اور دھرنوں کے ذریعے پریشان کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک طرف یہ ٹولہ قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔ جب کوئی فیصلہ ان کے مرضی کے خلاف آتا ہے۔ تو قانون کو روندا جا تا ہے۔
پاکستان کے عوام اب اس انتشاری ٹولے کو مسترد کر چکے ہیں اور چترال کے باشعور عوام نے بھی پی ٹی آئی کے انتشار کے کال کو مسترد کر دیا۔