لاوی ہائیڈل پراجیکٹ کے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور غفلت کی وجہ سے موژدہ شیشی کوہ کو نقصان پہنچنے کا الزام

ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ

اشتہارات

دروش(چ،پ) وادی شیشیکوہ کے گاؤں مؤژدہ کے مکینوں نے لاوی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دروش میں مبینہ ناقص کارکردگی اور مقامی آبادی کو شدید نقصانات پہنچنے پر ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر چترال، پراجیکٹ ڈائریکٹر لاوی پراجیکٹ دروش اور اسسٹنٹ کمشنر دروش کو باقاعدہ درخواست بھی ارسال کی گئی ہے۔

اس حوالے سے میڈیا سے رابطہ کرتے ہوئے گاؤں موژدہ کے مکینوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اسامہ بن سید نے بتایا کہ عوامی مشکل کے سلسلے دیئے گئے درخواست کا حوالہ دیکر بتایا کہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاوی پراجیکٹ کا آغاز 2016 میں ہوا تھا، تاہم ٹنل نمبر 3 میں کام کرنے والی سیچوان اور سرور کمپنیوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے باعث گاؤں مؤژدہ کے مکین شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

متاثرین کے مطابق تقریباً 3000 فٹ پر مشتمل ان کی زرعی و نجی زمین بغیر کسی معاوضے کے کاٹ لی گئی، جبکہ ملبہ بھی گھروں کے اوپر اور ساتھ بہنے والے نالے میں ڈال دیا گیا ہے، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

مقامی افراد نے بتایا کہ اس صورتحال پر احتجاج کرنے پر گاؤں کے بعض مکینوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور وہ دو مرتبہ جیل بھی جا چکے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور ناانصافی پر مبنی عمل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں نالے میں ملبہ جمع ہونے سے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں، اور کسی بھی وقت جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔

گاؤں کے مکینوں نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ کام اور سڑک بند کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری اور منصفانہ نوٹس لے کر ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ زمین کا مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔