مختلف سرکاری محکموں میں کرپشن کے الزامات، پی ٹی آئی کارکنان نے جامع تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

اشتہارات

چترال (بشیر حسین آزاد)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ورکرز کمیٹی لوئر چترال نے اپوزیشن کی جانب سے سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر سرکاری محکموں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات کی غیرجانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو مسترد کر دیا ہے، جس میں ایگزیکٹو انجینئر اور ٹی ایم او کو بطور ممبر شامل کیا گیا ہے۔

چترال پریس کلب میں درجنوں پارٹی کارکنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلطان محمد شیر، اعجاز احمد، امین الرحمن، سجاد پرتوی، اصلاح الدین، فیاض خان اور حاجی نیاز الدین سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا منشور شفافیت اور احتساب پر مبنی ہے۔

پارٹی کے مخلص کارکن ہونے کے ناتے وہ اپوزیشن کے الزامات کی غیرجانبدار تحقیقات کے حامی ہیں اور عوامی مفاد میں کرپشن کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے ورکرز کمیٹی کی جانب سے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے معتبر افراد کو شامل کیا جائے، جبکہ ہر ویلج کونسل کی مساجد میں عوامی سطح پر اجتماعی سماعتوں کے ذریعے تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے اپریل 2024 کے ڈیزاسٹر فنڈز میں مبینہ خوردبرد کا معاملہ بھی اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ سی اینڈ ڈبلیو چترال کے تین معروف افسران, ایگزیکٹو انجینئر، ایس ڈی او اور سب انجینئر, سے باز پرس کی جائے کہ انہوں نے کن کے دباؤ میں ادائیگیوں کے لیے دستخط کیے۔

انہوں نے دیگر محکموں کی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم اے، ایریگیشن اور سوئل کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ نے رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت درخواستیں دینے کے باوجود معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا، جو شفافیت کے دعوؤں کے منافی ہے۔ ورکرز کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔