خیبر پختونخوا میں سول ڈیفنس کو فعال بنانے کیلئے اقدامات شروع، تمام رضاکارانہ سیٹ اپ تحلیل، جامع تنظیمِ نو کا آغاز

ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے عملی اقدامات کا آغاز کردیا، سماجی اور فلاحی حلقوں کی جانب سے خوشی کا اظہار

اشتہارات

پشاور(چ، پ)محکمہ سول ڈیفنس خیبر پختونخوا نے ایک اہم فیصلے کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں موجود سول ڈیفنس کے رضاکارانہ سیٹ اپ کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر سول ڈیفنس خیبر پختونخوا زہد عثمان کاکا خیل کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تمام اضلاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ قانون کے تقاضوں کے عین مطابق اہل، موزوں، باصلاحیت، پُرعزم اور افراد پر مشتمل ایک نیا اور مؤثر رضاکارانہ نظام ازسرِ نو تشکیل دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سول ڈیفنس کے ادارے کو ایک طویل عرصے بعد فعال، منظم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی سنجیدہ کوششوں کا عملی اظہار ہے۔

ماضی میں عدم توجہی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث سول ڈیفنس کو اکثر ایک غیر مؤثر یا برائے نام ادارہ تصور کیا جانے لگا تھا، حالانکہ شہری دفاع کا یہ ادارہ امن کے زمانے میں قدرتی آفات، حادثات اور ہنگامی حالات، جبکہ جنگ کے دوران شہری تحفظ اور معاونت کے حوالے سے ایک منفرد اور کلیدی قومی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔

اس حوالے سے سماجی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی اصل طاقت اس کا تربیت یافتہ، منظم اور فعال رضاکارانہ نیٹ ورک ہوتا ہے، تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران نہ صرف رضاکاروں کی شمولیت کا عمل متاثر رہا بلکہ موجود سیٹ اپ کی فعالیت بھی نمایاں طور پر کمزور پڑتی چلی گئی۔

اسی تناظر میں سول ڈیفنس خیبر پختونخوا کی جانب سے رضاکارانہ ڈھانچے کو تحلیل کر کے ازسرِ نو تشکیل دینے کا فیصلہ ایک جرات مندانہ اور ناگزیر اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

محکمہ شہری دفاع کے موجودہ ڈائریکٹر کی قیادت میں ادارے کو دوبارہ مؤثر بنانے، اس کا وقار بحال کرنے اور اسے ایک فعال قومی ادارے کی حیثیت دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

نئے رضاکاروں کی شفاف انداز میں بھرتی، تربیت اور تنظیمِ نو کو مستقبل میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سماجی، عوامی اور فلاحی حلقوں نے محکمہ شہری دفاع کی اس پالیسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ہر ضلع میں ہنگامی صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والے تمام رضاکار گروپس کو سول ڈیفنس کے ساتھ باضابطہ طور پر منسلک کیا جائے گا۔

ساتھ ہی اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اضلاع میں سرگرم غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) بھی محکمہ شہری دفاع کے ساتھ مربوط ہو کر ایمرجنسی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے امور انجام دیں، تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں مربوط، مؤثر اور بروقت ردِعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

سماجی شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر اس فیصلے پر مؤثر اور مسلسل عملدرآمد کیا گیا تو سول ڈیفنس خیبر پختونخوا نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک میں شہری تحفظ اور آفات سے نمٹنے کے نظام کے لیے ایک مثالی ادارے کے طور پر ابھر سکتا ہے۔