ضلع چترال لوئر میں ڈیزاسٹر ریلیف و بحالی کے کاموں میں مبینہ کرپشن، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی سخت تنقید، تحقیقات کا مطالبہ

اشتہارات

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال کی مختلف سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ بالخصوص اور دیگر پبلک ورکس کے محکموں میں بالعموم ترقیاتی اور ڈیزاسٹر بحالی کے کاموں میں مبینہ کرپشن پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان محکموں میں کھلے عام بدعنوانی اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو عوامی احتجاج کو روکا نہیں جا سکے گا۔

اتوار کے روز چترال پریس کلب میں تجارتی یونین چترال کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو اور سابق عبوری صدر دین محمد ندیم کی معیت میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الحاج عیدالحسین، وجیہ الدین، محمد کوثر ایڈووکیٹ، مولانا محمد الیاس، قاضی نسیم، مولانا جاوید حسین اور دیگر مقررین نے کہا کہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ میں ڈیزاسٹر فنڈز میں غبن کے سنگین واقعات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گورنر کاٹیج روڈ پر 17 لاکھ روپے، چیو پل کی بحالی کی مد میں 30 لاکھ روپے، دنین گہتک روڈ کی بحالی پر 31 لاکھ روپے اور بائی پاس روڈ کے دو کلومیٹر حصے پر برف کی صفائی کے نام پر 30 لاکھ روپے خرچ دکھائے گئے، جو ان کے بقول قطعی طور پر بوگس بلنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

سیاسی رہنماؤں نے مزید کہا کہ چترال کی تاریخی چیو پل کے ایک سرے پر چار فٹ کا گڑھا پڑا تھا، جس میں صرف چار لوڈ مٹی ڈالنے کے عوض ٹھیکیدار کو مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کی بھاری رقم ادا کی گئی، جو سراسر غیر منطقی اور ناقابلِ فہم ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیزاسٹر کی مد میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن چترال و دروش سمیت تمام پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹس میں کی گئی ادائیگیوں کی مکمل اور شفاف چھان بین کی جائے، کیونکہ مبینہ طور پر کئی گھوسٹ اور ناقص منصوبے بھی شامل ہیں جن میں اوور پیمنٹ کے ذریعے افسران اور ٹھیکیداروں نے باہمی ملی بھگت سے بندر بانٹ کی ہے۔

سیاسی قائدین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ترقیاتی کاموں کے لیے کی گئی تمام ادائیگیوں کی تفصیلات پبلک کی جائیں تاکہ عوام کو حقائق سے آگاہی حاصل ہو، بصورت دیگر سیاسی جماعتوں کا فورم خود یہ معلومات حاصل کرکے عوام کے سامنے لائے گا۔

دوسری جانب، سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن لوئر چترال کے ایگزیکٹو انجینئر وسیم سے جب اس حوالے سے موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ترقیاتی، انفراسٹرکچر کی بحالی یا مرمت کے تمام کاموں کی ادائیگیاں ایک طے شدہ ضابطہ کار اور مربوط نظام کے تحت کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملات ان کے ٹینور سے قبل کے ہیں، لہٰذا وہ چترال پہنچ کر متعلقہ فائلوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس پر کوئی حتمی تبصرہ کر سکیں گے۔