خیبر پختونخوا میں دریا کنارے 200 فٹ زمین پروٹیکٹڈ قرار، تعمیرات پر مکمل پابندی کا فیصلہ

پشاور(میڈیا ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے دریاؤں کے تحفظ کیلئے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے دریاؤں کے کنارے 200 فٹ کا علاقہ ’’پروٹیکٹڈ لینڈ‘‘قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی حکومت کے فیصلے کے تحت پروٹیکٹڈ ایریا میں ہر قسم کی نئی تعمیرات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، پانی کی آلودگی کی روک تھام اور قدرتی آفات سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت نے دریاؤں کے تحفظ آرڈیننس 2002 کو ایک مؤثر قانونی بل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا نام ’’دریاؤں کا تحفظ ترمیمی بل 2025‘‘ رکھا گیا ہے۔
اہم نکات اور پابندیاں
دریا یا نالے کے کنارے 200 فٹ کے دائرے میں کوئی تعمیرات نہیں کی جا سکیں گی۔اس علاقے کو ’’محفوظ زمین‘‘ (Protected Land) قرار دیا گیا ہے۔کسی بھی قسم کی تعمیرات سے پہلے این او سی (NOC) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
ہوٹلوں اور گھروں میں استعمال شدہ پانی کی صفائی کے پلانٹس لگانا بھی لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ 10 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔قانون کی خلاف ورزی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا
ترجمان کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل کی خلاف ورزی پر 7 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔صوبائی حکومت نے دریاؤں کے اطراف موجود غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے خصوصی آپریشن بھی شروع کر رکھا ہے۔