اپر چترال ڈگری کالج کے پرنسپل اور پروفیسر کے تبادلے پر تنازع، تحریک انصاف قیادت پر تنقید

دونوں ماہرین تعلیم کو مبینہ طور کلاس فور کیخلاف کاروائی کی وجہ سے پر سیاسی بنیاد پر تبدیل کیا گیا ہے

اشتہارات

اپر چترال (چ،پ) اپر چترال کے واحد ڈگری کالج کے پرنسپل اور فزکس کے پروفیسر کے اچانک تبادلے کے بعد سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت، تحریک انصاف کی ضلعی قیادت اور ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی پر سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گریڈ 20 اور گریڈ 19 کے ان افسران کو اس وقت تبدیل کیا گیا جب صوبے میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد ہے۔ خصوصی رعایت لے کر ان ماہرین تعلیم کو ضلع سے باہر بھیجنے پر عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے کہ یہ تبادلے انتظامی نہیں بلکہ مخصوص نوعیت کے ہیں۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز اپر چترال میں ایک نائب قاصد، جو پی ٹی آئی تحصیل مستوج کے صدر کے بھائی ہیں، طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے۔ محکمانہ انکوائری کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے جواب میں مبینہ طور پر کالج کے پرنسپل اور پروفیسر کو ہٹادیا گیا۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل کے بعد ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی  نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ مکمل طور پر محکمانہ کارروائی ہے اور ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

بعد ازاں پی ٹی آئی تحصیل مستوج کے صدر (متعلقہ نائب قاصد کے بھائی) نے بھی وضاحتی بیانات جاری کرتے ہوئے اس اقدام میں ملوث ہونے کی تردید کی اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ” سرکاری ملازمین کی تقرریاں اور تبادلے محکمانہ پالیسی کے تحت ہوتے ہیں”۔

پی ٹی آئی اپر چترال کے صدر شہزادہ سکندر الملک نے بھی اس واقعے میں پارٹی کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر اس معاملے میں کسی پارٹی رہنما یا کارکن کا کردار ثابت ہوا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ادھر پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے بھی اسی نوعیت کے بیانات جاری کیے ہیں تاہم عوامی رائے بڑی حد تک کالج کے اساتذہ کے حق میں نظر آرہی ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر صارفین بشمول تحریک انصاف کے حامیوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے تحریک انصاف کی ساکھ کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔