افغانستان کے صوبے کنڑ میں زلزلے سے تباہی، درجنوں افراد جان بحق، سینکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ

اشتہارات

چترال(میڈیا ڈیسک) افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں آنے والے زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی سرحد سے متصل افغان صوبے کنڑ کے نورگل، ساوکی، واتپور، ماوگی اور چپہ درہ اضلاع میں گزشتہ رات آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک تقریباً 250 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

افغان میڈیا نے کنڑ کے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نورگل ضلع کی "مزار وادی” میں زلزلے کے باعث ودیر، شُوماش، مسعود اور اریت گاؤں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف اسی علاقے میں 200 افراد کے جاں بحق ہونے اور 2 ہزار سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

حکام نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں، کیونکہ دور دراز علاقوں میں امدادی ٹیمیں ابھی بھی پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں اور بعض راستے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہیں۔

حکام کے مطابق صوبے کے دیگر کئی اضلاع میں بھی لوگوں کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اسی دوران، لغمان کے حکام نے کہا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں صوبے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔

نورستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم وہاں کے نقصانات کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔

مقامی حکام کے مطابق زخمیوں کی منتقلی ہیلی کاپٹروں اور ایمبولینسوں کے ذریعے جاری ہے لیکن راستوں کی بندش کے باعث امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔