وادی ارسون کی دور افتادہ سرحدی چوکی پر فتنہ الخوارج کا حملہ پسپا، چترال سکاوٹس کے 2 جوان شہید
جوابی کاروائی میں متعدد دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے

دروش(چ،پ)اتوار کی صبح ارسون وادی کے دور افتادہ سرحدی پٹی پر قائم سیکورٹی پوسٹ پر افغانستان کے علاقے نورستان سے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چترال سکاوٹس (فرنٹئیر کور ) کے دو جوان شہید اور 5 دیگر زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع چترال لوئر کے تحصیل دروش کے وادی ارسون میں دور افتادہ سرحدی پوسٹ (سرفراز پوسٹ) پر اتوار کی صبح افغانستان کے علاقے سے دہشت گردوں نے حملہ کیا تاہم، چترال سکاؤٹس کے مستعد اور بہادر جوانوں نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملاتے ہوئے حملہ پسپا کردیا۔
اس لڑائی میں چترال سکاوٹس کا ایک جوان شہید جبکہ پانچ دیگر زخمی ہو گئے جن میں سے ایک جوان ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش میں شہید ہوگیا۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق چترال سکاوٹس کے جوانوں کی بھرپور جوابی کاروائی میں متعدد خوارجی دہشت گرد جہنم واصل ہوگئے ہیں جبکہ چند ایک زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سرحد کی حفاظت پر مامور جوانوں نے نہ صرف حملہ ناکام بنایا بلکہ متعدد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، جبکہ دیگر دہشتگرد حملہ ناکام ہونے کے بعد پسپائی پر مجبور ہو گئے۔
افسوسناک طور پر اس جھڑپ میں چترال سکاؤٹس کے سپاہی قمر سعید (سکنہ صوابی) نے جامِ شہادت نوش کیا۔
علاقہ مکینوں نے سیکیورٹی فورسز کی جرأت و قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ریاستی اداروں سے مکمل تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہاں یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ افغان حکومت اپنے علاقے میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو قابو کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔