شندور کیلئے پولو کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کا قتل عام ہے،لوئر اور اپر چترال کیلئے الگ الگ ایسوسی ایشن بنائے جائیں/پولو شائقین و کھلاڑیوں کا مطالبہ

اشتہارات

چترال(بشیرحسین آزاد)لوئر چترال کی سول سوسائٹی کے ارکان اور نوجوان پولو کھلاڑیوں حیات حسین، محیب الرحمن، تنویر شہزاد، مسرو ر الہٰی، عبدالقادر المعروف متار، ظفر اللہ خان جمالی اور دوسروں نے جشن شندور میں چترال کی نمائندگی کے لئے پولو ٹیموں کی کھلاڑیوں کی سلیکشن کے عمل پر اپنی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے میرٹ کا قتل عام، بے ضابطگی سے بھرپور اور اقرباء پروری پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف چترال اور شندور میں احتجاج کرنے کا اعلان کردیا اور حکومت کو 24گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔

اتوار کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پری شندور پولو ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو شندور کی ٹیموں میں شامل کرکے نوٹیفکیشن جاری کیاگیا تھا لیکن ایک دن پہلے بااثر شخصیات کی دباؤ میں آکر ڈی سی لوئر چترال نے دو باصلاحیت کھلاڑیوں تنویر شہزاد اور مسرور الہٰی کو دوبارہ ٹیم سے نکال دیا اوراپنی مرضی کا ایک نیا لسٹ جاری کروادیا گیا جو سراسر ناانصافی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پولو ایسوسی ایشن کے قواعد کے مطابق وہی کھلاڑی شندور ٹیم میں شامل ہوسکتا ہے جس نے پری شندور ٹورنامنٹ میں کوارٹرز فائنل تک رسائی حاصل کی ہو لیکن اس سلیکشن کے مطابق ایک ہی گھر کے ایسے تین کھلاڑی چن لئے گئے ہیں جو کہ تیسرے راونڈ میں ہی ہارگئے تھے جبکہ فائنل میں کھیلنے والے نوجوان کھلاڑی عبدالرحیم کو آؤٹ کرنا بھی سوالیہ نشان ہے جس نے فائنل میچ میں دو گول بھی اسکور کیا تھا جبکہ عبدالرحیم فائنل میں اور اسلام نبی، طارق حسین اور عوض علی بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جوکہ کوارٹر فائنل تک پہنچ گئے تھے لیکن سفارش نہ ہونے کی بنا پر آوٹ کردئیے گئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ سلیکشن کمیٹی میں شامل شیر افگن الملک کا پولو سے تعلق نہیں ہے جوکہ فٹ بال کا کھلاڑی ہے جبکہ ایک اور ممبر حاکم آف دروش بھی پولو نہیں کھیلتے جبکہ اس کمیٹی کے باقی تین ممبران ناصر آف ریشن، محمد اعظم آف کوشٹ اور حیدری آف بونی غیر حاضررہے لہٰذا سلیکشن کمیٹی کی حیثیت خود ہی متنازعہ بن جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس لولے لنگڑے سلیکشن کمیٹی کی لسٹ کو فوری طور پر کالعدم قرار دیاجائے۔

انہوں نے پولو ایسوسی ایشن کو اس بے ضابطگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس ایسوسی ایشن کی تشکیل کھلاڑیوں کی ووٹنگ کے ذریعے سے ہو اور اپر چترال کے لئے الگ ایسوسی ایشن عمل میں لایاجائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اپر چترال اور لوئر چترال میں کھلاڑیوں کی تعداد میں تناسب موجود نہیں ہے کیونکہ اپر چترال سے 28سول کھلاڑی جبکہ لوئر چترال سے صرف 12کھلاڑیوں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے جوکہ ناانصافی کا ثبوت ہے۔