بجلی بلوں میں ہوشربا اضافہ، عمائدین ریشن نے عوامی احتجاج کا اعلان کر دیا

اپرچترال(چ،پ)ضلع اپر چترال کے قصبے ریشن کے عمائدین اور مقامی لوگوں نے حکومت کی جانب سے بجلی کے مہنگے بلوں کے مسئلے کو حل نہ کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے 13 جون کو شندور روڈ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ علاقے میں بجلی کے ناقابل برداشت نرخوں کو کم کرے اور عوامی مسائل کی طرف فوری توجہ دے۔
تفصیلات کے مطابق، ریشن اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین گزشتہ کئی مہینوں سے مہنگے بجلی بلوں سے شدید پریشان ہیں۔ مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے بل ادا کرنا ممکن نہیں۔
علاقائی عمائدین اور منتخب نمائندوں نے کئی بار ضلعی اور صوبائی حکام سے رابطہ کیا، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔ عمائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شندور روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے نرخ فوری طور پر کم کیے جائیں، غیر ضروری ٹیکسز کو ختم کیا جائے، علاقے کے لیے ایک مستقل اور سستا بجلی منصوبہ بنایا جائے اور حکومت فوری مذاکرات کا آغاز کرے۔
شندور روڈ بند ہونے کی صورت میں نہ صرف مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ یہ چترال اور گلگت کے درمیان رابطے میں بھی رکاوٹ بنے گا، جس سے سیاحت اور معیشت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔علاقہ مکینوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو یہ احتجاج مزید وسعت اختیار کرے گا اور سڑک کی بندش غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
حکومت کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔