چترال نرسز فورم کا سالانہ کنونشن، خدمات کا اعتراف اور مسائل کے حل کی یقین دہانی

اشتہارات

پشاور(چ،پ) چترال نرسز فورم پاکستان کے زیر اہتمام دوسرا سالانہ نرسز کنونشن ہفتے کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں خیبرپختونخوا بھر سے نرس آفیسرز، نرسنگ کالجز کے پرنسپلز، طالبات، صحافی، انسانی حقوق کارکنان اور سول سوسائٹی نمائندگان نے شرکت کی۔

کنونشن میں چترال سے تعلق رکھنے والی نرسز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور شعبہ نرسنگ میں ان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نرسز کو درپیش مسائل جیسے محدود وسائل، تبادلہ پالیسیوں میں غیر شفافیت، تربیتی مواقع کی کمی، پیشہ ورانہ ترقی کی راہیں مسدود ہونا، اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

تقریب میں موجود محکمہ صحت اور دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام نے نرسز کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ چترال جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ وہ مزید جذبے سے اپنی خدمات انجام دے سکیں۔

کنونشن کے دوران بہترین خدمات انجام دینے والے نرسز کو اعزازی اسناد اور ٹوکن آف اپریسی ایشن سے نوازا گیا۔ نرسنگ کالجز کی طالبات نے سینئر نرسز کو اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کے عزم کا اظہار کیا۔

چترال نرسز فورم کے صدر جعفریاد حسین، چیئر پرسن فریدہ فراز اور ایگزیکٹو کونسل کی رکن مسرت اعجاز نے کنونشن کو کامیاب بنانے پر تمام مہمانوں، شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز نرسز کی پیشہ ورانہ شناخت مضبوط بنانے اور ان کی آواز حکام تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

کنونشن میں معروف انسانی حقوق کارکن پیر مختار نبی اور ڈپٹی سیکرٹری فائنانس سید ابراہیم شاہ نے خصوصی شرکت کی اور چترالی نرسز کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے مسائل کے حل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔