خیبر پختونخواہ میں سیکورٹی فورسز کی اہم اور کامیاب کاروائیاں، چار مہینوں میں 1396 دہشت گرد ہلاک

پشاور(چ،پ) خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے یکم جنوری 2024 سے 23 اپریل 2025 کے دوران بھرپور اور مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 1396 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں 168 انتہائی مطلوب اور سرکردہ دہشت گرد شامل ہیں۔
ان آپریشنز میں زمینی اور فضائی کارروائیاں مربوط انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں ، ان کاروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ کر ان کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا۔
کارروائیوں کی تفصیلات کے مطابق سوات، دیر، کاٹلنگ، مہمند اور خیبر کے علاقوں میں 35 سرکردہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں عزیز الرحمان عرف قاری اسماعیل، سلیم عرف ربانی اور مخلص جیسے خطرناک دہشت گرد شامل ہیں، جن کی ہلاکت سے ان علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
کرم، کرک اور ٹل میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران جن 20 اہم دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا ان میں ریحان اللہ عرف منتظر آشنا، ابو زر عرف صدام اور محمد عرفان شامل ہیں، جو کئی بڑی کارروائیوں میں ملوث تھے اور سیکیورٹی فورسز کو طویل عرصے سے مطلوب تھے۔
جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 82 سرکردہ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ ذبیح اللہ عرف ذکران اور خان محمد خوری جیسے اہم کمانڈرز کی ہلاکت سے علاقے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو زبردست دھچکا لگا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت میں بھی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشت گردوں شیرین، شفی اللہ اور ثاقب گنڈاپور کو جہنم واصل کر دیا۔ ان دہشت گردوں کی ہلاکت سے جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے خطرے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
شمالی وزیرستان میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 30 اہم عسکریت پسندوں کو مار گرایا، جن میں ظفرالدین عرف مخلص، حذیفہ عرف عثمان اور احمد شاہ عرف انتظار شامل ہیں۔ یہ عناصر علاقے میں بدامنی اور دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔