پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ بیانیہ نے کئی سوالات اٹھا دئیے؟؟؟

بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے حملے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے، حملہ بیسران وادی میں ہوا۔ حملہ آوروں نے پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کی تعداد 2 سے 3 تھی۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ حملے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام عائد کیا، جو خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ کا باعث ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ علاقائی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں کے پاکستان پر الزامات نے کئی سوالات اٹھ دئے ہیں کہ کیا یہ واقعہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ غیر ذمہ دار بھارتی میڈیا کی اس طرح کی کوریج نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ نفرت کو ہوا دے کر سرحد کے دونوں طرف شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔
بھارت کی جانب سے رچائے جانے والے پہلگام حملے کے بعد کئی اہم سوالات سامنے آئے ہیں جن کا جواب دینا اب بھارت کیلئے ناگزیر ہوچکا ہے، یہاں یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ بھارت کی جانب سے جن 27 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے کیا ان کی لاشیں سامنے لائی جائیں گی۔۔۔؟
پہلگام حملہ اگر واقعی دہشت گرد حملہ تھا تو ان نام نہاد دہشت گردوں کی لاشیں کہاں ہیں۔۔۔؟
صرف گوڈی میڈیا پر ایک مشکوک تصویر سامنے آئی ہے جس میں زمین پر لیٹے مرد کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے، مگر تصویر میں نہ خون نظر آتا ہے، نہ زخم، اور نہ ہی کوئی فوری تباہی کا ثبوت۔۔۔۔۔؟
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے عین اس وقت پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرنا شروع کی جب بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ ہو رہا تھا، کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا۔۔۔۔؟
یہاں سوال یہ بھی اہم ہے کہ عالمی برادری کو وہ کون سا ثبوت دکھایا گیا جس سے پاکستان کی مبینہ شمولیت ثابت ہوتی ہو۔۔۔۔؟
کیا کوئی ہتھیار، مواصلاتی ریکارڈ، ویڈیو فوٹیج یا کوئی بھی مادی شواہد موجود ہیں۔۔۔؟
حقیقت یہ ہے کہ بھارتی میڈیا اور مودی سرکار کی جانب سے صرف زبانی الزام تراشی اور چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ پہلگام، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، لائن آف کنٹرول سے تقریباً 400 کلومیٹر دور واقع ہے، اور وہاں سی آر پی ایف، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز سمیت بھارت کی 8 لاکھ سے زائد فوج تعینات ہے۔ کیا ایسے میں دن دہاڑے انتہائی سیکیورٹی والے علاقے میں حملہ ہونا بھارتی فوج کی سکیورٹی ناکامی نہیں ہے۔۔۔۔؟
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس طرح کے مشکوک اور منظم حملے اکثر تب ہی کیوں پیش آتے ہیں جب کوئی مغربی یا امریکی سیاسی شخصیت بھارت کا دورہ کر رہی ہو۔۔۔۔؟
ایسے حملے تب ہی کیوں ہوتے ہیں جب بھارت میں کوئی اہم داخلی سیاسی یا سفارتی سرگرمی جاری ہو۔۔۔۔؟
کیا یہ سب کچھ محض اتفاق ہے، یا پھر کسی بڑے فریب یا مذموم مقصد کا حصہ۔۔۔؟
آخر بھارت نے پچھلے فالس فلیگ آپریشنز اور فینٹم حملوں سے کوئی سبق حاصل کیا یا نہیں۔۔۔؟
اگر دنیا کو بھارت کی یہ خود ساختہ کہانی سنجیدگی سے لینا ہے تو بھارت کو ان سوالات کا غیر مبہم اور شفاف جواب دینا ہوگا۔عالمی برادری کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بھارت کے جھوٹ اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ جو ملک دنیا بھر میں سکھوں کو ٹارگٹ کر کے بین الاقوامی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، وہ کس منہ سے پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔۔۔؟
بھارت کا یہ دوہرا معیار اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ اب مزید نہیں چلے گا۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بغیر شواہد کے اس طرح کے حملوں ، بے بنیاد الزام تراشی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش بے سود رہتی ہے