رمان لاسپور کے کمسن شیراز کے قتل میں ملوث سوتیلے بھائی عیدالرحمن نے اقرار جرم کر لیا
مقتول کی والدہ کی طرف سے نامزد کرنے پر پولیس نے ملزم کو حراست میں لیا تھا، دوران تفتیش جرم کا اقرار کیا

بونی (چ،پ) اپر چترال کے علاقے لاسپور رمان میں میں کمسن شیراز ولد شیر محمد کے قتل کے الزام میں زیر حراست ملزم عیدالرحمٰن نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کمسن شیراز کے سوتیلے بھائی عیدالرحمٰن نے دوران تفتیش اس گھناونے جرم کا اعتراف کر لیا۔
اس حوالے اپر چترال پولیس کے سربراہ عتیق شاہ نے ایس پی انوسٹی گیشن اجمل خان اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 25 فروری کو رمان لاسپور کے رہائشی شیر محمد نے اپنے 12 سالہ بیٹے شیراز احمد خان کی گمشدگی کے حوالے سے رپورٹ درج کیا جس پر پولیس تھانہ لاسپور میں 156ضمن 2 ضابطہ فوجداری کے تحت انکوائری کا آغاز کیا گیا اور گمشدہ شیراز احمد خان کی تلاش میں گھر والوں کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس بھی تگ و دو کرتی رہی۔
اگلے دن شیراز احمد خان کی لاش دیرو گوچ رمان سے برآمد ہوئی اور مقامی پولیس فوراً موقع پر پہنچ کر ابتدائی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعد لاش کو بغرض پوسٹ مارٹم THQ ہسپتال بونی کیا گیا جہاں ابتدائی ڈاکٹری رائے کے مطابق یہ واقعہ خود کشی نہیں بلکہ قتل کی واردات ظاہر کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش کے لئے پولیس کے تجربہ کار آفیسروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی جنہوں نے پیشہ وارانہ مہارت سے کیس کو ٹریس کر لیا۔
ڈی پی او عتیق شاہ نے بتایا کہ مقتول شیراز کی والدہ نے بہ رو برو عدالت ملزم عیدالرحمٰن پر دعویدار ی کرتے ہوئے اسے اس مقدمے میں نامزد کر ادی۔
موت کے اسباب معلوم کرنے کے لئے انکوائری زیرِ دفع 156 ضمن 2 ضابطہ فوجداری کو انکوائری زیرِ دفع 174 ضابطہ فوجداری میں منتقل کیا گیا، تحقیقات کے دوران مقتول کے گلے میں ڈالے گئے تسمے کا ہوبہو دوسراتسمہ مقتول کے گھر سے برامد ہوئے۔ اس طرح کے اور شواہد و دیگرحالات و واقعات سے اس بات پر شک مزید پختہ ہوا کہ مقتول کے قتل میں بہت ہی قریبی ہاتھ ملوث ہے۔
دوسری طرف مقتول کے سوتیلے بھائی مسمی عید الرحمان کا رویہ جائیداد اور میراث کی تقسیم کو لیکر ہمیشہ سے منفی رہا۔ملزم عید الرحمان کا رویہ مقتول کی والدہ کے ساتھ جائیداد کی تقسیم کو لیکر ہمیشہ خراب رہا ہے۔
اس قتل کے پیچھے انسانی خمیر میں بسی لالچ اور اپنوں کے لئے بوئی گئی نفرت جیسے عوامل اور دیگر پیچیدگیاں کار فرما ہیں۔
