ملاکنڈ یونیورسٹی واقعہ، خیبرپختونخوا کے جامعات کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہونے گا، کیا ملوث افراد کو سزا ملےگی؟؟

اسلام آباد(فیصل اکبر آفریدی)مالاکنڈ یونیورسٹی چکدرہ میں ایک پروفیسر عبدالحسیب پر مبینہ الزامات کے بعد صوبائی حکومت بھی حرکت میں آگئی اور انہوں نے اصل حقائق کے لیے کمیٹی بٹھا دی جس کے بعد انہوں نے اپنے تحقیقات کا اغاز شروع کر دیا ۔ طلبہ و طالبات کے والدین انتہائی پریشانی کی کیفیت میں پڑھ چکے ہیں ،تعلیمی اداروں کا معیار انتہائی گرتا جا رہا ہے۔
اس سے قبل 2020 میں صوبہ بلوچستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف بلوچستان میں خفیہ ویڈیو بنانے اور طالبات کو حراساں کرنے کے الزام میں یونیورسٹی سینڈیکیٹ نے سابق وائس چانسلر سمیت پانچ ملازمین کو مختلف نوعیت کی سزائیں دی تھی، یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے جن اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کی تھی ان کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف سزاؤں کا تعین کرنے کے لیے یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی کے بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر اور سکیورٹی گارڈ کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یونیورسٹی کے سابق رجسٹر ار اور سابق ٹرانسپورٹ آفیسر کی تنخواہوں میں دو دو سال سالانہ اضافے روکنے کا فیصلہ کیا تھا ،سابق وائس چانسلر کو کوئی سزا دینے کا اختیار مذکورہ انکوائری کمیٹی کے پاس نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی انکوائری کمیٹی نے گورنر بلوچستان جو کہ یونیورسٹی کے چانسلر ہوتے ہیں کو سابق وائس چانسلر کے خلاف جوڈیشل کاروائی اور ان سے ایوارڈ اور ٹائٹلز واپس لینے کی سفارش کی تھی، یونیورسٹی میں طالبات کو حراساں کرنے کے الزامات منظرعام پر آنے کے بعد شدید احتجاج زور پکڑ ی تو سابق وائس چانسلر نے اپنے عہدے سے تحقیقات مکمل ہونے تک علیحدگی اختیار کیا تھا۔
ادھر بہاولپور یونیورسٹی سکینڈل منظر عام آنے کے بعد چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار نے یہ الفاظ کہے تھے کہ یونیورسٹی سکینڈل میں جو بھی ملوث ہو چوک پر ٹکا دینا چاہیے، اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کا بھی ایک سکینڈل سامنے آیا، حال ہی میں گومل یونیورسٹی میں ایک لڑکے کو لڑکی کا لباس پہنا کر اسے نچوایا گیا۔ اسی یونیورسٹی میں گریٹ 21 کے پروفیسر نے ایک طلبہ کو حراساں کیا تھا ۔
اس طرح کے واقعات ہونے اور سکینڈل میڈیا پر منظر عام آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نیند سے بیدار ہو جاتی ہے حالانکہ تمام موبائل کی فرانزک ہونی چاہیے پاکستان میں کسی لڑکی سے موبائل پر برہنہ تصویر منگوانا ہراساں کرنا الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 پیکا پریونٹیشن آف الیکٹرانک کرائم کے تحت جرم ہے، اس کے تحت درج ہونے والے مقدمات درج ذیل دفعات کے تحت آسکتے ہیں ۔دفعہ 20 بدنامی اور ہتک عزت اگر کوئی شخص کسی کی عزت کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کی تصویر یا معلومات کا غلط استعمال کرے تو اس پر تین سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے ،جنسی ہراسانی اگر کوئی شخص کسی خاتون کو نازیبہ پیغامات بھیجے یا اس سے برہنہ تصاویر طلب کرے تو یہ جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے ۔
تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کو سوچنا چاہیے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں کیونکہ یونیورسٹیوں میں نشہ آور ادویات بھی برآمد ہو تی رہتی ہیں، اکثر یونیورسٹیوں میں بیٹیاں چیخ رہی ہیں کہ ہم پڑھنے کے لیے جاتے ہیں اور نمبرات دینے کے لیے مختلف طریقوں سے انہیں ہراسمنٹ کا شکار کیا جاتا ہے ۔ خیبر پختون خواہ میں موجود تمام تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو چاہیے ہراسمنٹ روکنے کے لیے اس کے لیے آگاہی سیمینار منعقد کرے تاکہ جو پروفیسر انہیں ہراسمنٹ کی کوشش کریں تو وہ فوری طور پر ان کے خلاف آواز بلند کرے،
اب دیکھنا ہے کہ مالاکنڈ یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹیاں کہاں تک انصاف کرتی ہے بعض عوامی حلقوں نے مذکورہ یونیورسٹی پر سوالات اٹھائیں کہ ان میں موجود تمام ملازمین کے موبائل کی فرانزک لیبارٹری بھجوائی جائے تاکہ یہ سلسلہ رک سکے ۔وزیراعلی خیبر پختونخواہ کو چاہیے انکوائری کمیٹی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ( FIA ) کی خدمات بھی حاصل کرے کیونکہ موبائل کے ذریعے مذکورہ طلبہ کو ہراساں کیا گیا اور درج ہونے والی ایف آئی آر میں ( 509) پی پی سی کیوں نہیں لگایا گیا، یہ بھی ایک سوال ہے۔ مذکورہ ہراسمنٹ کا شکار ہونے والی یونیورسٹی کی طلبہ نے پرووسٹ کو جب تحریری درخواست دی اس ٹائم یونیورسٹی انتظامیہ نے اہم ایشو پر کمیٹی کیوں نہیں بٹھائی ؟یہ کوتاہی کس کی تھی؟ کیا ان کے خلاف کاروائی ہوگی یا معاملے کو دیگر واقعات کی طرح دبایا جائے گا ؟
ذرائع بتاتے ہیں ضلع مالاکنڈ میں اس افسوسناک واقعہ کو مقامی صحافیوں کو بھی یا تو خبر نہیں تھی یا انہیں مجبور کیا گیا کہ یونیورسٹی کے خلاف کوئی خبر نہ آئے جب سوشل میڈیا پر خبر چلی تمام ادارے حرکت میں آگئے۔