اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس سید کریم الحسینی آغاخان چہارم انتقال کر گئے
پرنس کریم آغاخان کا دور انسانی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں کے حوالے سے سنہرا ترین دور رہا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسماعیلی کمیونٹی کے 49 ویں روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان انتقال کر گئے۔
اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا اور 49 ویں امام، پرنس سید کریم الحسینی آغا خان چہارم کا پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں انتقال ہوگیا۔ وہ 88 برس کے تھے۔انہوں نے ایک عہد ساز زندگی گزاری اور فلاحی سرگرمیوں کا جال بچھا کر اقوام عالم میں ایک منفرد مقام پایا۔
پرنس کریم آغا خان کی نمازہ جنازہ لزبن میں ادا کی جائے گی، پرنس کریم آغا خان کے انتقال پردنیا بھر میں جماعت خانوں میں خصوصی دعائیں شروع کردی گئی ہیں۔
پرنس کریم آغا خان 1936 میں پیدا ہوئے اور انہیں 11 جولائی1957 میں امام بنایا گیا تھا ۔اس وقت ان کی عمر 20 برس تھی۔ پرنس کریم کے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان اسماعیلی کمیونٹی کے پیشوا تھے۔
پرنس کریم آغا خان نے اپنی زندگی پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے میں صرف کی۔ وہ اس بات پر زور دیتے رہے تھے کہ اسلام ایک دوسرے سے ہمدردی، برداشت اور انسانی عظمت کا مذہب ہے۔
ایک اعلامیے کے مطابق شاہ کریم الحسینی المعروف پرنس کریم آغا خان کی وفات پر اسماعیلی کمیونٹی میں گہرے غم کا سامنا ہے۔ انہوں نے اسماعیلی کمیونٹی کی رہنمائی اور فلاحی منصوبوں میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔
پرنس کریم آغا خان نے اپنی زندگی میں تعلیمی، ثقافتی اور معاشی ترقی کے مختلف منصوبوں کی سرپرستی کی، جنہوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں بہتری لانے کا کام کیا۔ ان کی رہنمائی اور فلاحی کاموں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
پاکستان میں پرنس کریم آغا خان کو ستارہ امتیاز اور ستارہ پاکستان سے نوازا گیا۔