طالبان حکومت تسلیم نہ کرنے کے باوجود امریکہ افغانستان کو کھربوں ڈالر امداد دے رہا ہے

اسلام آباد(چ،پ) افغانستان میں طالبا ن کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود امریکہ ابھی تک افغان حکومت کی امداد جاری رکھا ہوا ہے اور اس وقت امریکہ افغانستان کو مالی امداد دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ فرانسیسی اخبار لی مونڈے (Le Monde) کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے افغانستان کے حوالے سے اپنے ادارے سگار (SIGAR) کے ذریعے افغانستان کی تعمیر نو کے نام پر مالی اور اسٹریٹجک امداد جاری رکھا ہوا ، اور اس امداد کی ترسیل میں امریکی سی آئی اے کا کلیدی کردار ہے۔
امریکہ کی طرف سے طالبان کی حکومت تسلیم نہ کرنے کے باوجود اس طرح بھاری امداد کی فراہمی اور سی آئی اے کے اس میں کلیدی کردار نے تجزیہ نگاروں کو حیران کرکے رکھ دیا ہے اور افغانستان میں امریکی احداف اور پالیسی کے بارے میں نئے بحث نے جنم لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن اس کے باوجود طالبان کو امریکا کی طرف سے ہر ہفتے 40 ملین ڈالر ملتے ہیں یہ رقم ماہانہ 160 ملین ڈالر بنتی ہے امریکا نے اگست 2021 سے اگست 2023 تک افغانستان کو دو اعشاریہ 6 بلین ڈالر امداد دی جب کہ یہ 2021 سے 2024 تک افغانستان پر 21 بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے یوں امریکا اس وقت بھی افغانستان کا سب سے بڑا ڈونر ہے ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جہاں افغانستان میں برسراقتدار طالبان کو امریکہ کی طرف سے امداد مل رہی ہے جبکہ پاکستانی طالبان جنہیں ٹی ٹی پی کہا جاتا ہے اسے انڈیا کی طرف سے بلا تعطل براہ راست اور بالواسطہ امداد کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالات کچھ ایسا اشارہ دے رہے ہیں کہ امریکہ کا ایکدم افغانستان سے انحلا ایک سوچا سمجھا پلان تھا جس کے تحت عجلت میں افغانستان سے نکلا اور بھاری اسلحہ پیچھے چھوڑ کر چلا گیا تا کہ یہ اسلحہ طالبان اور ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگ جائے۔
دوسری طرف مقامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات وسیع ہیں اور ان پر نظر رکھنا اولین ترجیح ہے، اس ضمن میں ماہرین پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اہمیت کا حامل سمجھتے ہوئے رائے ظاہر کررہے ہیں کہ پاکستان کے اندر سیاسی شورش اور بد امنی کی بنیاد پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور میزائل پروگرام کو کنڑول میں رکھنا ہمیشہ سے "طاقتوں” کا ہدف رہا ہے۔
افغان اور پاکستان کے دفاعی امورسے باخبر ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ ایک گریٹ گیم ہے، اس میں کچھ پرانے کھلاڑی ہیں اور کچھ نئے شامل کئے گئے ہیں، اہداف کا تعین بہت پہلے ہوچکا، سالوں نہیں بلکہ دہائیوں پہلے، انکا ماننا ہے کہ اس وقت افغانستان کی حیثیت بہت اہمیت کا حامل ہے ، افغان طالبان صاحب ثروت ہیں، انکے پاس اسلحہ اور دیگر وسائل بھی موجود ہیں جبکہ ٹی ٹی پی کے پاس اسلحہ، تربیتی مراکز اور ہندوستان کی طرف سے فراہم کردہ مالی وسائل ہیں، اسلئے یہ جو گریٹ گیم ہے یہ چلتا رہے گا اور اسکی نظر "ایٹمی پاکستان” کو غیر مسلح اور بے ضرر بنانا ہے۔
#ChitralPost