پاکستان افغانستان بگڑتے تعلقات، آئی ایس آئی چیف کا دورہ تاجکستان، خطے کی صورتحال کی تبدیل ہونے کے اشارے

پاکستان کی بدلتی ہوئی پالیسی خطے میں واضح اور فیصلہ کن تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی

اشتہارات

چترال پوسٹ(خصوصی رپورٹ)پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ نے گذشتہ دنوں تاجکستان کا انتہائی اہم دورہ کیا ہے جسے مبصرین اور تجزیہ نگار پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز سمجھتے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ نے ایک ایسے وقت میں تاجکستان کا دورہ کیا جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات نہ صرف خراب ہیں بلکہ مزید بگڑتے جارہے ہیں، 24 دسمبر کو پاکستانی فضائیہ کی طرف سے افغانستان کے اندر فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کامیاب کاروائی ، اسکے بعد افغانستان کی طرف سے سرحد پر متعدد مقامات میں پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے اور سب سے بڑھ کر واخان کے حوالے سےمیڈیا میں چلنے والے خبروں کے درمیان میں پاکستان کے اہم عسکری شخصیت کے دورے نے خطے کے مستقبل کے حوالے سے نئے اشارات مرتب کئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے اچانک تاجکستان کے دورے کو پاکستان کی جانب سے افغانستان کے حکمران طالبان کے ساتھ بگڑتے تعلقات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور یہ کہ افغان طالبا ن کی سرد مہری، پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر پاکستان کی افغان پالیسی میں واضح اور نمایاں تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستانی حکام کو توقع تھی کہ افغان طالبان پاکستان کی طرف سے انکو فراہم کردہ اخلاقی، سیاسی اور سفارتی تعاون کی لاج رکھتے ہوئے فتنہ الخوارج کے حوالے سے پاکستان کے مبنی برحق مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرینگے مگر اسکے برعکس افغان طالبان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکے بالکل الٹ موقف اختیار کیا جسکے بعد پاکستان نے افغانستان میں دیگر آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اب پاکستان افغانستان کے اندر اور افغانستان کے باہر سے یکساں طور پر حکمران طالبان کے بارے میں ایک واضح سمت کا تعین کر چکا ہے جس میں ایک اہم قدم افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے مخالفین بالخصوص شمالی اتحاد کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنا بھی شامل ہے، شمالی اتحاد جو کہ اکثر تاجک النسل اور ازبک نسل کے لوگوں پر مشتمل ہے اسکی قیادت تاجکستان میں مقیم ہے اور یہ اسوقت افغانستان کے اندر واحد تحریک ہے جو کہ افغان طالبان کو چیلنج کر رہی ہے، قومی مزاہمتی فورسز (National Resistance Forces) کے بینر تلے انکی محدود کاروائیوں کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں جبکہ سیاسی محاذ پر بھی یہ حلقہ طالبان کی نہ صرف نقاد ہے بلکہ ہر دستیاب فورم پر افغان طالبان کے خلاف موثر انداز میں آواز اٹھاتی ہے۔
اسکے علاوہ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر بھی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے راہنماوں سے رابطے استوار کئے ہوئے ہیں جبکہ طالبان کے اندر بھی موجود گروپوں کیساتھ گفتگو وشنید کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین چند دن قبل پاکستان کے خصوصی مندوب کے دورہ افغانستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس دوران پاکستانی مندوب نے افغان طالبان کے اندر "کابل گروپ” کیساتھ گفت و شنید کئے جبکہ افغان طالبان کے ” قندھاری گروپ” کو اس بات چیت سے باہر رکھا گیا۔
افغان طالبان کی اندرونی صورتحال بھی بہتر نہیں اور موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مختلف امور کے حوالے سے برملا طور پر اپنی قیادت کے فیصلوں اور اقدامات پر اپنے الگ رائے کا اظہار کر تے آرہے ہیں، یعنی کے طالبان کے صفوں میں بھی ہلچل شروع ہے جو کہ بڑھتی جار ہی ہے۔
خطے کی اس بدلتے ہوئے صورتحال میں تجزیہ نگار حال ہی میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی چینی سفیر سے ملاقات کو غیر معمولی نوعیت کا قرار دے رہے ہیں ، خیال کیا جاتا ہے کہ افغان وزیر نے چینی سفیر کے ذریعے پاکستان کے ساتھ معاملات کو معمول پر لانے کی بات کی ہے کیونکہ اسوقت عالمی طاقتوں میں واحد چین ہے جس کا نہ صرف پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں بلکہ افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ بھی چین کے تعلقات بہت ہی اچھے ہیں، نیز چین نے پاکستان کے علاوہ افغانستان میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے حالات بگڑنے اور سیکورٹی صورتحال ابتر ہونے کا نقصان چین کو بھی ہوتا ہے، خاص کر پاکستان کے اندر فتنہ الخوارج کی کاروائیوں میں چینی باشندے نشانہ بنائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بارے میں چین کے خصوصی نمائندے نے چند ہفتے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا جنہیں چینی باشندوں پر فتنہ الخوارج کے حملوں کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور افغان حکومت کی چشم پوشی کے بارے میں دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے گئے۔
پاکستان اور افغانستان کے امور پر گہری نظر رکھنے والے خبر رساں ویب سائٹ آزادی ریڈیو نے غیر مصدقہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر بھی دی ہے کہ آئی ایس آئی چیف کے حالیہ دورہ تاجکستان کے دوران افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بھی تاجکستان کا دورہ کیا اور مبینہ طور آئی ایس آئی چیف سے انکی ملاقات بھی ہوگئی ہے جس میں مجموعی صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے۔
ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے یہ شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان نے سنجیدہ رویہ اپنانے کا حتمی فیصلہ کیا ہوا ہے اور پالیسی میں 90 ڈگری کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے، افغان طالبا ن کے حوالے سے پالیسی ناکامی کا شکار ہوگئی ہے کیونکہ افغان طالبان نے "دوحہ معاہدے” کے وقت جو وعدے کئے تھے اور پاکستان کو جو یقین دہانیاں کرائی تھی انہیں پورا نہیں کرپائے اور مجبوراً پاکستان کو اپنی قومی اسلامتی اور شہریوں کے تحفظ کی خاطر افغانستان کے حوالے سے پالیسی کو تبدیل کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین اور باخبر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو افغانستان میں برسر اقتدار طالبان کی حکومت بمشکل 2025 کو نکال پائے گی یا پھر 2026 کے وسط تک افغانستان میں ایک نئی حکومت بنتی نظر آرہی ہے۔
کیونکہ نہ صر ف پاکستان بلکہ تاجکستان اور روس کی طرف سے بھی افغانستان پر یہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ افغان سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ اسی طرح ایران کے ساتھ بھی افغان طالبان کے تعلقات کو اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ایران کے بھی اپنے مفادات ہیں، ایران ہمیشہ سے شمالی اتحاد کا حامی رہا ہے اور اب موقع کے انتظار میں ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی برادری بھی طالبان کی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے انسے دور ہوتی جارہی ہے، خواتین کی تعلیم اور ملازمت، نسلی اقلیتوں کے مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، میڈیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے جیسے واقعات نے دیگر ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
پاکستان کی طرف سے پالیسی کی تبدیلی افغان طالبان کے لئے نہ صرف حال میں بلکہ مستقبل میں بھی طالبان کیلئے پیچیدگی برقرار رہے گی کیونکہ خطے کے دیگر ممالک میں واحد پاکستان ہی ہے جو افغانستان کی بھرپور مدد کرتا آرہا ہے، پاکستانی حکومت بھی ہر فورم پر افغانستان کے مسائل کو اجاگر کرنے اور افغانستان کے تعمیر نو میں مدد دینے کی وکالت کر رہا ہے مگر افغان طالبا ن کی پالیسیوں کی وجہ سے اب پاکستان بھی ان سے دور ہو رہا ہے۔
پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کا اثر نہ صرف افغان حکمران طالبا ن پر پڑے گا بلکہ افغانستان کے عوام پر بھی براہ راست اس سے متاثر ہونگے کیونکہ واحد پاکستان ہے کہ اس کے دروازے کسی بھی وقت افغان عوام کے لئے کھلے ہیں، کاروبار، سماجی ضروریات، علاج معالجہ، تعلیم یعنی ہر ایک شعبے کیلئے پاکستان افغانوں کے لئے اہم مرکز ہے۔