چترال کے دونوں اضلاع میں پرائیویٹ سکولز اضافی چارجز وصول کرتے پائے گئے ہیں،ریگولٹری اتھارٹی
اکثر پرائیویٹ سکولز طلبہ سے غیر قانونی طور پر داخلہ فیس وصول کر رہی ہیں

چترال(چ،پ) پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع چترال لوئر اور اپر میں اکثر نجی سکولز طلبہ سے مختلف اضافی فیس وصول کر رہے ہیں جو کہ نہ صرف قواعد سے روگردانی ہے بلکہ یہ عمل عدالت عالیہ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔
اس سلسلے میں ریگولٹری اتھارٹی کی طرف سے چترال کے دونوں اضلاع کے پرائیویٹ سکولز کے پرنسپلز کے نام مکتوب جاری کیا گیا ہے اور انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کی طرف سے طلبہ سے داخلہ فیس کی وصولی اور سبلنگ رعایت کی عدم فراہمی سامنے آئی ہے۔
مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے گذشتہ دنوں چترال اپر اور لوئر کے سکولوں کا دورہ کیا جس کے دوران یہ چیز سامنے آئے ہے کہ پبلک سکول انتظامیہ طلبہ سے داخلہ فیس لے رہے ہیں جبکہ سبلنگ کی رعایت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ عمل سراسر خلاف ضابطہ ہے۔
مکتوب میں پبلک سکولوں کے منتظمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قواعد وضوابط کی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کی پیروی کریں اور طلبہ سے داخلہ فیس کی وصولی سے اجتناب کریں۔
اتھارٹی کی طرف سے پبلک سکولز کی انتظامیہ کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ سبلنگ کنسیشن (Sibling Concession) پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائیں اور اس ضمن میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ سبلنگ ڈسکاونٹ 20 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ 20 فیصد ڈسکاونٹ کی یہ رعایت ایسے خاندان کو ملنی چاہیے جن کے ایک سے زیادہ بچے اسی سکول میں پڑھتے ہوں۔
واضح رہے سبلنگ کنسیشن یا ڈسکاونٹ ایسے خاندان کو ملنے والی ریلیف ہے جس کے ایک سے زیادہ بچے اسی سکول میں زیر تعلیم ہوں۔

#chitralpost