کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے افسر کی طرف سے شہری پر تشدد کے خلاف چترال کے سیاسی و سول سوسائٹی کا ایکا، فوراً کاروائی کا مطالبہ

لیویز اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے، قرارداد

اشتہارات

چترال(چ،پ )پیر 2 ستمبر کوجامع مسجد بازار  شاہی بازار چترال میں تمام سیاسی جماعتوں, تجار یونین، بار کونسل چترال ، ویلج کونسل ناظمین اور مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے کثیر افراد نے گذشتہ ہفتے اے ڈی کنزیومر پروٹیکشن کونسل چترال اور ان کی عملے کی طرف سے منیجر ٹی سی ایس پرتشدد کے خلاف اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں متفقہ طور پر زیل قرارداد منظور کرلی گئی۔
1. یہ کہ کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے آفسر کی طرف سے لیویز اہلکاروں کو پولیس کی وردی پہنا کر منیجر ٹی سی ایس کے دفتر جا کر مذکورہ مینیجر کو گھسیٹ کر اسے دفتر سے نکال کر مکوں اور لاتوں سے مار کر تشدد کر کے غیر قانونی طور پر اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے اِسی طرح موصوف نے نہ صرف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا بلکہ دھوکہ دہی اور غلط بیانی کرکے لیویز اہلکاروں کو پولیس کی وردی پہنا کر قابل دست اندرانی جرم کا ارتکاب کیا لہذا یہ اجلاس متفقہ طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ مذکورہ اے ڈی عرفان عزیز کے خلاف اور مذکورہ واقعہ میں ملوث لیویز اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔
2. یہ کہ مذکورہ اے ڈی عرفان عزیز کے خلاف فوجداری مقدمہ کے علاوہ محکمانہ کاروائی کر کے اس کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے۔
3. یہ کہ اجلاس متفقہ طور پر یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ڈپٹی کمشنر جو کہ لیویز کا کمانڈر ہے آئندہ کے لئے پبلک مقامات پر سرکاری ملازمین آفیسر کے لیویز اہلکاروں کی ڈیوٹی نہ لگائے۔
4. یہ کہ مذکورہ اے ڈی عرفان عزیز کے خلاف عوامی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کی رو سے مذکورہ اے ڈی نے دکانداروں سے رقم بغیر چالان کے وصول کر کے غبن کیا ہے اور مختلف غیر معیاری اشیاء خصوصا کھانے کے غیر معیاری چپس چترال بازار لانے میں ملوث رہا ہے مذکورہ الزامات کی انکوائری کرا کر ثابت ہونے کی صورت میں قرار واقعی سزا دی جائے۔
لہذا آج کا یہ اجلاس متفقہ طور پر مذکورہ بالا مطالبات ضلعی انتظامیہ اور حکومت کو (02) دو دن کی مہلت دیتی ہے ۔دو دن میں اقدامات نہ کرنے کی صورت میں حالات کی خراب کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ عائد پر  ہوگی۔