ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش کی کاروائی، سرکاری گندم نجی گودام سے برآمد، گودام سیل

اشتہارات

دروش(چ،پ) ڈپٹی کمشنر چترال انوارالحق کی ہدایت پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش کبیر خان نے جمعرات کی رات دروش بازار میں کاروائی کرتے ہوئے نجی گودام سے 26بوری(2672کلو گرام) سرکاری گندم بر آمد کرکے گودام کو سیل کر لیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش کبیر خان نے بتایا کہ مذکورہ گندم دروش گودام سے ارسون کے لئے بھیجا گیا تھا مگر شام کے وقت گاڑی سے اتار کر انہیں دروش بازار میں ایک گودام میں رکھنے کی اطلاع ملی جس پر ڈپٹی کمشنر چترال لوئر انوارالحق کی ہدایت پر ہم نے کاروائی کی ہے۔ اس موقع پر محکمہ فوڈ کے اہلکار، ارسون گودام کے چوکیدار، گاڑی کا ڈرائیور اور نجی گودام کا مالک بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل اے سی دروش کبیر خان نے بتایا کہ سرکاری گندم کسی نجی گودام میں رکھنا غیر قانونی ہے، عوام کے لئے جو گندم سپلائی ہونا تھا وہ اس علاقے کے غریب عوام کو ہر حال میں ملنا چاہیے اور ضلعی انتظامیہ اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ جمعرات کے روز دروش گودام سے ارسون کے لئے تین گاڑیاں نکلی ہیں، دو ارسون پہنچ گئے ہیں۔ گاڑی کے ڈرائیور اور ارسون گودام کے چوکیدار نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا کہ انکی گاڑی خراب ہوگئی تھی، اس لئے یہ گندم اس نجی گودام میں رکھا گیا،تا ہم اے سی کبیر خان انکے موقف سے مطمئن نہیں ہوئے اور سوال کیا کہ اگر گاڑی خراب ہوگئی تھی تو متعلقہ سرکاری ذمہ داروں کو اطلاع کیوں نہیں کی گئی، سرکاری گندم کسی نجی گودام میں کیونکر رکھا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ فی الحال گودام سیل کی گئی ہے، سرکاری گندم سرکاری کی تحویل میں لی گئی ہے، اس پر مزید قانونی کاروائی کی جائے گی۔

عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے فوری ایکشن کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عوام دوست اقدامات سے عوام کا اعتماد انتظامیہ پر مزید مضبوط ہوگا۔