پیر. اکتوبر 3rd, 2022

چترال(محکم الدین)چترال نیشنل موومنٹ کے جنرل سیکرٹری حیات اللہ گرزی نے کہا ہے کہ چترال کے کٹور خاندان کے مہتر اور شہزادے چترال کے لوگوں کیلئے قابل احترام ہیں اور اسی بنا ء پر فاتح الملک ناصر کو پورے چترال کے مہتر ہونے کا اعزاز حاصل تھا جس کی تاج پوشی میں چترال کے تمام برادریوں کے سرکردہ شخصیات نے شرکت کی جو کہ ان پر چترال کے لوگوں کا اعتماد اور تخت چترال و مہتر کے منصب کے ساتھ ان کی بھرپور محبت کا اظہار تھا۔ چترال پریس کلب میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسو س کا مقام ہے کہ فاتح الملک علی ناصر نے مہتر چترال کے ٹائٹل کی توہین کی اور چترال کے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے ایک سیاسی پارٹی میں شمولیت کرکے خود اپنی قدکو چھوٹا کیااور پوری چترالی قوم سے غداری کے مرتکب ہوئے جس کی وجہ سے آئینی اور دستوری طور پر فاتح الملک علی ناصر مہتر چترال کے منصب سے محروم ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں قلعہ چترال کی ملکیت بھی متنازعہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسکاٹ بک کے مطابق قلعہ چترال کی ملکیت مہتر چترال کے ٹائٹل کے لئے ہے، یہ وراثتی ملکیت نہیں ہے۔ حیات اللہ گرزی نے کہا کہ مہتر چترال کا منصب کسی بھی سیاسی پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے بہت بڑا ہے اور چترالی قوم کیلئے یہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لئے اگر مہتر چترال کو کوئی سیاسی فیصلہ کرنا ہی تھا تو اس کیلئے چترال کے ان تمام برادریوں کا پھر سے اعتماد حاصل کرنا چاہئیے تھا جس طرح تاجپوشی کے موقع پر تمام برادریوں کے سرکردہ شخصیات کو دعوت دی گئی تھی اور چترال کے لوگوں نے شاہی دعوت نامہ قبول کرتے ہوئے تخت چترال کے وارث کے ساتھ اپنی روایتی حمایت و عقیدت کا اظہار کیا تھا۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مہتر چترال نے اس منصب کی پاسداری نہیں کی اور ایک پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے خود کو متنازعہ بنایا۔ انہوں نے شہزادگان چترال سے اپیل کی کہ چونکہ فاتح المک علی ناصر ایک پارٹی کے کارکن بن گئے ہیں لہذامتبادل مہتر چترال کا انتخاب کیا جائے۔